ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 554
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۵۴ ازالہ اوہام حصہ دوم اس خرقہ کی توہین ہوئی اور اس کی حرمت آپ کے اختیار میں ہے۔ آپ ہی کی طرف سے تھا میں صرف ایلچی تھا۔ تب میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنی طرف حضرت ابوبکر صدیق اور صحابہ اور بائیں طرف حضرت عیسی علیہ السلام بیٹھے تھے اور سامنے آپ یعنی یہ عاجز کھڑا ہے اور ایک طرف مولوی محمد حسین کھڑا ہے اس وقت حضرت عیسی علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیان کیا کہ اگر اللہ تعالی کی یہ عادت ہوتی کہ وہ فوت شدہ لوگوں کو دوبارہ دنیا میں بھیجتا اور میں بھیجا جاتا تو مجھ سے بھی دنیا کے لوگ یو نہی پیش آتے جیسا کہ ان کے ساتھ آئے ( یعنی اس عاجز کے ساتھ ) پھر میاں صاحب مرحوم نے مجھے فرمایا کہ حضرت عیسی کے بالوں کو دیکھ۔ تب میں نے اُن کے سر کے بالوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ سیدھے ہو گئے اور جب ہاتھ اُٹھایا تو کنڈل پڑ گئے ۔ پھر میاں صاحب نے فرمایا ۸۳۸ کہ دیکھو ان کی آنکھوں کی طرف۔ جب میں نے دیکھا تو آنکھیں شربتی تھیں اور رنگ نہایت سفید جو نہیں دیکھا جاتا تھا۔ پھر میاں صاحب نے فرمایا کہ عیسی علیہ السلام کا یہی حلیہ ہے مگر وہ مسیح موعود جس کے آنے کا وعدہ تھا اُس کا حلیہ وہی ہے جو تم دیکھتے ہو اور آپ کی طرف اشارہ کیا یعنی اس عاجز کی طرف۔ پھر میں بیدار ہو گیا اور دل پر اس رؤیا کا اثر تار برقی کی طرح پایا۔ (۳) تیسری یہ کہ حتی فی اللہ میاں عبد الحکیم خاں صاحب اپنے رسالہ ذکر الحکیم کے صفحہ ۳۸ میں لکھتے ہیں کہ میں ماہ ستمبر ۱۸۹۰ء میں بموقعہ تعطیلات موسمی تر اوڑی میں مقیم تھا۔ اُس جگہ میں نے متواتر تین یا چار دفعہ عیسی علیہ السلام کو خواب میں دیکھا اور ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں نے خواب میں سنا کہ حضرت عیسی علیہ السلام تشریف لائے ہیں میں یہ خبر سن کر حضرت مسیح علیہ السلام کی زیارت کے واسطے چلا۔ جب آپ کی محفل میں پہنچا تو میں نے سب پر سلام کہا اور پوچھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کس جگہ تشریف رکھتے ہیں وہاں مرزا یوسف بیگ صاحب سامانوی جو مرزا صاحب کے مریدوں میں سے ہیں موجود تھے انہوں نے مجھے بتلایا میں ادب سے مسیح علیہ السلام کی طرف چلا مگر جب دوبارہ نظر اُٹھا کر دیکھا