ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 553
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۵۳ ازالہ اوہام حصہ دوم بیرونی شہادتیں بعد ختم کتاب بعض شہادتیں ہم کو ملیں مناسب سمجھ کر اُن کو کتاب کے ساتھ شامل کر دیا (۱) یہ کہ کوہ نور یکم اگست ۱۸۹۱ء اور نور افشاں ۳۰ جولائی ۱۸۹۱ء میں بحوالہ اخبار عام لکھا ہے (۸۳۶) کہ حال میں امریکہ کے ایک بڑے پادری صاحب پر وہاں کے لوگوں نے کفر کا الزام لگایا ہے۔ وجہ کفریہ ہے کہ اسے مسیح کے معجزات اور جسمانی طور پر زندہ ہونے مسیح کا اعتقاد نہیں ہے۔ بیان کیا گیا ہے کہ یہ ایک بڑا پادری اسی فرقہ میں سے ہے کہ جو عیسائیوں کے اس عقیدہ سے پھر گیا ہے کہ مسیح زندہ ہے اور پھر دوبارہ دنیا میں آئیگا سو یہ ایک بیرونی شہادت ہے جو خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کے دعویٰ پر قائم کی اور عیسائیوں کے ایک محقق پادری سے جو درجہ کی رو سے ایک بڑا پادری ہے وہی اقرار کرایا جس کی نسبت اس عاجز کو الہامی خبر دی گئی ۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ (۲) دوسری یہ کہ ایک بزرگ حاجی حرمین شریفین عبد الرحمن نام جنہوں نے دو حج کئے ہیں مرید خاص حضرت حاجی منشی احمد جان صاحب مرحوم و مغفور ساکن لود ہیا نہ جو مرد پیر بعمر قریب انٹی سال کے ہیں اپنی ایک رویا میں بیان کرتے ہیں کہ میں نے جس روز مولوی محمد حسین صاحب کی آپ سے یعنی اس عاجز سے بحث ہوئی تھی رات کو خواب میں دیکھا کہ میاں صاحب مرحوم یعنی حاجی احمد جان صاحب نے مجھے اپنے مکان پر بلایا ہے۔ چنانچہ میں گیا اور ہم پانچ آدمی ہو گئے اور سب مل کر حضرت خواجہ اویس قرنی کے پاس گئے ۔ اُس وقت حضرت اویس قرنی خرقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینے (۸۳۷) ہوئے تھے ۔ پھر وہاں سے ہم سب اور اویس قرنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں پہنچے اور اویس قرنی نے وہ خرقہ آنحضرت صلعم کے سامنے رکھ دیا اور عرض کی کہ آج