ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 552
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۵۲ ازالہ اوہام حصہ دوم نیکی کرتا ہے۔ سو یہ اخلاقی ترقی کا آخری کمال ہے کہ ہمدردی خلائق میں کوئی نفسانی مطلب یامد عا یا غرض درمیان نہ ہو بلکہ اخوت و قرابت انسانی کا جوش اس اعلیٰ درجہ پر نشو و نما ۸۳۵ پا جائے کہ خود بخود بغیر کسی تکلف کے اور بغیر پیش نہا درکھنے کسی قسم کی شکر گذاری یا دعا یا اور کسی قسم کی پاداش کے وہ نیکی فقط فطرتی جوش سے صادر ہو۔ عزیز و! اپنے سلسلہ کے بھائیوں سے جو میری اس کتاب میں درج ہیں باستثنا اس شخص کے کہ بعد اس کے خدائے تعالیٰ اس کو رد کر دیوے خاص طور سے محبت رکھو اور جب تک کسی کو نہ دیکھو کہ وہ اس سلسلہ سے کسی مخالفانہ فعل یا قول سے باہر ہو گیا تب تک اس کو اپنا ایک عضو سمجھو لیکن جو شخص مکاری سے زندگی بسر کرتا ہے اور اپنی بد عہدیوں یا کسی قسم کے جور و جفا سے اپنے کسی بھائی کو آزار پہنچا تا ہے یا وساوس و حرکات مخالف عہد بیعت سے باز نہیں آتا وہ اپنی بد عملی کی وجہ سے اس سلسلہ سے باہر ہے۔اس کی پرواہ نہ کرو۔ چاہیے کہ اسلام کی ساری تصویر تمہارے وجود میں نمودار ہو اور تمہاری پیشانیوں میں اثر سجود نظر آوے اور خدائے تعالیٰ کی بزرگی تم میں قائم ہو ۔ اگر قرآن اور حدیث کے مقابل پر ایک جہان عقلی دلائل کا دیکھو تو ہر گز اس کو قبول نہ کرو اور یقینا سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے۔ توحید پر قائم رہو اور نماز کے پابند ہو جاؤ اور اپنے مولی حقیقی کے حکموں کو سب سے مقدم رکھو اور اسلام کے لئے سارے دکھ اٹھاؤ۔ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ! ل ال عمران :۱۰۳