ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 551 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 551

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۵۱ ازالہ اوہام حصہ دوم ہر یک حق اُسی کا ہے۔ اسی طرح تم بھی اس کے ساتھ کسی کو اُس کی پرستش میں اور اس کی (۸۳۳ ) محبت میں اور اُس کی ربوبیت میں شریک مت کرو۔ اگر تم نے اس قدر کر لیا تو یہ عدل ہے جس کی رعایت تم پر فرض تھی ۔ پھر اگر اس پر ترقی کرنا چا ہو تو احسان کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تم اس کی عظمتوں کے ایسے قائل ہو جاؤ اور اُس کے آگے اپنی پرستشوں میں ایسے متادب بن جاؤ اور اُس کی محبت میں ایسے کھوئے جاؤ کہ گویا تم نے اُس کی عظمت اور جلال اور اُس کے حسن لازوال کو دیکھ لیا ہے۔ بعد اس کے ایتاء ذی القربیٰ کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تمہاری پرستش اور تمہاری محبت اور تمہاری فرمانبرداری سے بالکل تکلف اور تصنع دور ہو جائے اور تم اُس کو ایسے جگری تعلق سے یاد کرو کہ جیسے مثلا تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو اور تمہاری محبت اس سے ایسی ہو جائے کہ جیسے مثلاً بچہ اپنی پیاری ماں سے محبت رکھتا ہے۔ اور دوسرے طور پر جو ہمدردی بنی نوع سے متعلق ہے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ اپنے بھائیوں اور بنی نوع سے عدل کرو اور اپنے حقوق سے زیادہ اُن سے کچھ تعرض نہ کرو اور (۸۳۴ ہے انصاف پر قائم رہو۔ اور اگر اس درجہ سے ترقی کرنی چاہو تو اس سے آگے احسان کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کی بدی کے مقابل نیکی کرے اور اُس کی آزار کی عوض میں تو اس کو راحت پہنچاوے اور مروت اور احسان کے طور پر دستگیری کرے۔ پھر بعد اس کے ایتاء ذی القربیٰ کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تو جس قدر اپنے بھائی سے نیکی کرے یا جس قدر بنی نوع کی خیر خواہی بجالا وے اس سے کوئی اور کسی قسم کا احسان منظور نہ ہو بلکہ طبعی طور پر بغیر پیش نہا دکسی غرض کے وہ تجھ سے صادر ہو جیسی شدت قرابت کے جوش سے ایک خویش دوسرے خویش کے ساتھ