ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 550
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۵۰ ازالہ اوہام حصہ دوم بلکہ چاہیے کہ تو آنکھیں بند کر کے اپنے تئیں ٹھوکر سے بچاوے تا تیری دلی پاکیزگی میں کچھ فرق نہ آوے۔ سو تم اپنے مولی کے اس حکم کو خوب یا درکھو اور آنکھوں کے زنا سے اپنے تئیں بچاؤ اور اس ذات کے غضب سے ڈرو جس کا غضب ایک دم میں ہلاک کر سکتا ہے۔ قرآن شریف یہ بھی فرماتا ہے کہ تو اپنے کانوں کو بھی نا محرم عورتوں کے ذکر سے بچا اور ایسا ہی ہر یک نا جائز ذکر سے۔ مجھے اس وقت اس نصیحت کی حاجت نہیں کہ تم خون نہ کرو کیونکہ بجز نہایت شریر آدمی کے کون ناحق کے خون کی طرف قدم اٹھاتا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ نا انصافی پر ضد کر کے سچائی کا خون نہ کرو ۔ حق کو قبول کر لو اگر چہ ایک بچہ سے اور اگر مخالف کی طرف حق پاؤ تو پھر فی الفورا اپنی خشک منطق کو چھوڑ دو ۔ سچ پر ٹھہر جاؤ اور سچی گواہی دو جیسا کہ اللہ جل شَـانـه فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ ے یعنی بتوں کی ۸۳۲ پلیدی سے بچو اور جھوٹ سے بھی کہ وہ بت سے کم نہیں۔ جو چیز قبلہ حق سے تمہارا منہ پھیرتی ہے وہی تمہاری راہ میں بہت ہے۔ کچی گواہی دو اگر چہ تمہارے باپوں یا بھائیوں یا دوستوں پر ہو ۔ چاہیے کہ کوئی عداوت بھی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔ با ہم " بخل اور کینہ اور حسد اور بغض اور بے مہری چھوڑ دو اور ایک ہو جاؤ ۔ قرآن شریف کے بڑے حکم دو ہی ہیں۔ ایک تو حید و محبت و اطاعت باری عزاسمه - دوسری ہمدردی اپنے بھائیوں اور اپنے بنی نوع کی۔ اور ان حکموں کو اس نے تین درجہ پر منقسم کیا ہے جیسا کہ استعداد میں بھی تین ہی قسم کی ہیں اور وہ آیت کریمہ یہ ہے۔ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَايْ ذِي الْقُرْبى -۔ پہلے طور پر اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ تم اپنے خالق کے ساتھ اس کی اطاعت میں عدل کا طریق مرعی رکھو ظالم نہ بنو۔ پس جیسا کہ در حقیقت بجز اس کے کوئی بھی پرستش کے لائق نہیں۔ کوئی بھی محبت کے لائق نہیں کوئی بھی تو کل کے لائق نہیں کیونکہ بوجہ خالقیت اور قیومیت در بوبیت خاصہ کے الحج :٣١ النحل :٩١ ۔