ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 530 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 530

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۳۰ ازالہ اوہام حصہ دوم نہیں کرتے۔ اور اگر چہ وہ پہلے ہی سے مخلص با صفا ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ زیادہ تر قریب کھینچے گئے ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ حقانیت کی روشنی ایک بے غرضانہ خلوص اور الہی محبت میں دمبدم اُن کو ترقی دے رہی ہے اور مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان ترقیات کی وجہ سے اپنے حسن ظن کے حالات میں زیادہ سے زیادہ پاکیزگی حاصل کرتے جاتے ہیں اور روحانی کمزوری پر غالب ہوتے جاتے ہیں۔ میرا دل ان کی نسبت یہ بھی شہادت دیتا ہے کہ وہ دنیوی طور سے ایک صحیح اور باریک فراست رکھتے ہیں اور خدائے تعالیٰ کے فضل نے اس عاجز کی روحانی شناسائی کا بھی ایک قابل قدر حصہ انہیں بخشا ہے اور آداب ارادت میں وہ صفائی حاصل کرتے جاتے ہیں اور قلت اعتراض اور حسن ظن کی طرف ان کا قدم بڑھتا جاتا ہے اور (۷۹۵) میری دانست میں وہ ان مراحل کو طے کر چکے ہیں جن میں کسی خطرناک لغزش کا اندیشہ ہے۔ (۱۲) حتى فى الله مرز امحمد یوسف بیگ صاحب سامانوی۔ مرزا صاحب مرزا عظیم بیگ صاحب مرحوم کے حقیقی بھائی ہیں جن کا حال رسالہ فتح اسلام میں لکھا گیا ہے اور وہ تمام الفاظ اور اخلاص کے جو میں نے اخویم مرزا عظیم بیگ صاحب مغفور و مرحوم کے بارے میں فتح اسلام میں لکھے ہیں اُن سب کا مصداق میرزا محمد یوسف بیگ صاحب بھی ہیں۔ ان دونوں بزرگوار بھائیوں کی نسبت میں ہمیشہ حیران رہا کہ اخلاق اور محبت کے میدانوں میں زیادہ کس کو قرار دوں۔ میرزا صاحب موصوف ایک اعلیٰ درجہ کی محبت اور اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور اعلیٰ درجہ کا حسن ظن اس عاجز سے رکھتے ہیں اور میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ سے میں اُن کے خلوص کے مراتب بیان کرسکوں۔ یہ کافی ہے کہ اشارہ کے طور پر میں اسی قدر کہوں کہ ھو رجل يحبّنا ونحبه ونسئل الله خيره في الدنيا والآخرة - مرزا صاحب نے اپنی زبان اپنا مال اپنی عزت اس لکھی محبت میں وقف کر رکھی ہے اور اُن کا مریدانہ و محبانہ اعتقاد اس حد تک