ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 526 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 526

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۲۶ ازالہ اوہام حصہ دوم پٹھان تھے ۱۴۶۹ ء میں عہد سلطنت بہلول لودھی میں اپنے وطن سے اس ملک میں آئے۔ شاہ وقت کا اُن پر اس قدر اعتقاد ہو گیا کہ اپنی بیٹی کا نکاح شیخ موصوف سے کر دیا اور چند گاؤں جاگیر میں دے دیئے چنانچہ ایک گاؤں کی جگہ میں یہ قصبہ شیخ صاحب نے آباد کیا جس کا نام مالیر ہے۔ شیخ صاحب کے پوتے بایزید خاں نامی نے مالیر کے متصل قصبہ کوٹلہ کو تقریباً ۱۵۷۳ء میں آباد کیا جس کے نام سے اب یہ ریاست مشہور ہے۔ بایزید خان کے پانچ بیٹوں میں سے ایک کا نام فیروز خان تھا اور فیروز خان کے بیٹے کا نام شیر محمد خان اور شیر محمد خان کے بیٹے کا نام جمال خان تھا۔ جمال خان کے پانچ بیٹے تھے مگر ان میں سے صرف دو بیٹے تھے ۷۸۸) جن کی نسل باقی رہی یعنی بہادر خان اور عطاء اللہ خان ۔ بہادر خان کی نسل میں سے یہ جوان صالح خلف رشید نواب غلام محمد خان صاحب مرحوم ہے جس کا عنوان میں ہم نے نام لکھا ہے خدا تعالیٰ اس کو ایمانی امور میں بہادر کرے اور اپنے جد شیخ بزرگوار صدر جہان کے رنگ میں لاوے۔ سردار محمد علی خان صاحب نے گورنمنٹ برطانیہ کی توجہ اور مہربانی سے ایک شائستگی بخش تعلیم پائی جس کا اثر اُن کے دماغی اور دلی قومی پر نمایاں ہے۔ اُن کی خداداد فطرت بہت سلیم اور معتدل ہے اور باوجود عین شباب کے کسی قسم کی حدت اور تیزی اور جذبات نفسانی اُن کے نزدیک آئی معلوم نہیں ہوتی۔ میں قادیان میں جب کہ وہ ملنے کے لئے آئے اور کئی دن رہے پوشیدہ نظر سے دیکھتا رہا ہوں کہ التزام ادائے نماز میں اُن کو خوب اہتمام ہے اور صلحاء کی طرح توجہ اور شوق سے نماز پڑھتے ہیں اور منکرات اور مکروہات سے بکلی مجتنب ہیں۔ مجھے ایسے شخص کی خوش قسمتی پر رشک ہے جس کا ایسا صالح بیٹا ہو کہ باوجود بہم پہنچنے تمام اسباب اور وسائل غفلت اور عیاشی کے اپنے عنفوان جوانی میں ایسا پر ہیز گار ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بتو فیقہ تعالیٰ خود اپنی اصلاح پر آپ ۷۸۹ زور دے کر رئیسوں کے بے جا طریقوں اور چلنوں سے نفرت پیدا کر لی ہے اور نہ صرف