ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 523
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۲۳ ازالہ اوہام حصہ دوم فراست نہایت صحیح ہے اور وہ بات کی تہ تک پہنچتے ہیں اور اُن کا خیال ظنونِ فاسدہ سے مصفی اور مزکی ہے۔ رسالہ ازالہ اوہام کے طبع کے ایام میں دوسو او پید ان کی طرف سے پہنچا اور ان (۷۸۲ کے گھر کے آدمی بھی اُن کے اس اخلاص سے متاثر ہیں اور وہ بھی اپنے کئی زیورات اس راہ میں محض اللہ خرچ کر چکے ہیں۔ حکیم صاحب موصوف نے باوجود ان سب خدمات کے جوان کی طرف سے ہوتی رہتی ہیں خاص طور پر پنج روپے ماہواری اس سلسلہ کی تائید میں دینا مقرر کیا ہے۔ جزاهم الله خيرا الجزاء واحسن اليهم في الدنيا والعقبي۔ (۳) حبّى فى الله مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ۔ مولوی صاحب اس عاجز کے یکرنگ دوست ہیں اور مجھ سے ایک کچی اور زندہ محبت رکھتے ہیں اور اپنے اوقات عزیز کا اکثر حصہ انہوں نے تائید دین کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ اُن کے بیان میں ایک اثر ڈالنے والا جو ش ہے۔ اخلاص کی برکت اور نورانیت اُن کے چہرہ سے ظاہر ہے۔ میری تعلیم کی اکثر باتوں سے وہ متفق الرائے ہیں مگر میرے خیال میں ہے کہ شاید بعض سے نہیں لیکن اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب کے انوار صحبت نے بہت سا نورانی اثر اُن کے دل پر ڈالا ہے اور (۷۸۳) نیچریت کی اکثر خشک باتوں سے وہ بیزار ہوتے جاتے ہیں۔ اور در حقیقت میں بھی اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ الہی کتاب کے واقعی اور سچے منشاء کے مخالف نیچر کے ایسے تابع ہو جائیں کہ گویا کامل ہادی ہمارا وہی ہے۔ میں ایسے حصہ نیچریت کو قبول کرتا ہوں جس کو میں دیکھتا ہوں کہ میرے مولیٰ اور ہادی نے اپنی کتاب قرآن کریم میں اس کو قبول کر لیا ہے اور سنت اللہ کے نام سے اس کو یاد کیا ہے۔ میں اپنے خداوند کو کامل طور پر قادر مطلق سمجھتا ہوں اور اسی بات پر ایمان لا چکا ہوں کہ وہ جو چاہتا ہے کر دکھاتا ہے اور اسی ایمان کی برکت سے میری معرفت زیادت میں ہے اور محبت ترقی میں۔ مجھے بچوں کا ایمان پسند آتا ہے اور فلسفیوں کے بودے ایمان سے میں منظر ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ مولوی صاحب اپنی محبت کے پاک جذبات کی وجہ سے