ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 522
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۲۲ ازالہ اوہام حصہ دوم پرندہ زندہ کر دیا جائے حالانکہ وہ خوب جانتے ہوں گے کہ ہمارے اصولوں سے یہ مخالف ہے۔ ہمارا یہی اصول ہے کہ مردوں کو زندہ کرنا خدائے تعالیٰ کی عادت نہیں اور وہ آپ فرماتا ہے حَرَمُ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْتُهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ۔ یعنی ہم نے یہ واجب کر دیا ہے کہ جو مر گئے پھر وہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو یہ کہا تھا کہ آسمانی نشان کی اپنی طرف سے کوئی تعیین ضروری نہیں بلکہ جو امر انسانی طاقتوں سے بالاتر ثابت ہو خواہ وہ کوئی امر ہو اسی کو آسمانی نشان سمجھ لینا چاہیے اور اگر اس میں شک ہوتو بالمقابل ایسا ہی کوئی دوسرا امر دکھلا کر یہ ثبوت دینا چاہیے کہ وہ امر الہی قدرتوں سے مخصوص نہیں لیکن ڈاکٹر صاحب اس سے کنارہ کر گئے اور مولوی صاحب نے وہ صدق قدم دکھلایا جو مولوی صاحب کی عظمت ایمان پر ایک محکم دلیل ہے۔ دل میں از بس آرزو ہے کہ اور لوگ بھی مولوی صاحب (۷۸) کے نمونہ پر چلیں۔ مولوی صاحب پہلے راستبازوں کا ایک نمونہ ہیں۔ جزاهم الله خيرا الجزاء و احسن اليهم في الدنيا والعقبى (۲) حتى فى الله حکیم فضل دین صاحب بھیروی ۔ حکیم صاحب اخویم مولوی حکیم نوردین صاحب کے دوستوں میں سے اور ان کے رنگ اخلاق سے رنگین اور بہت با اخلاص آدمی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اُن کو اللہ اور رسول سے سچی محبت ہے اور اسی وجہ سے وہ اس عاجز کو خادم دین دیکھ کر حبّ اللہ کی شرط کو بجالا رہے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں دین اسلام کی حقانیت کے پھیلانے میں اُسی عشق کا وافر حصہ ملا ہے جو تقسیم از لی سے میرے پیارے بھائی مولوی حکیم نور دین صاحب کو دیا گیا ہے۔ وہ اس سلسلہ کے دینی اخراجات کو بنظر غور دیکھ کر ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ چندہ کی صورت پر کوئی اُن کا احسن انتظام ہو جائے ۔ چنانچہ رسالہ فتح اسلام میں جس میں مصارف دینیہ کی پینج شاخوں کا بیان ہے انہیں کی تحریک اور مشورہ سے لکھا گیا تھا۔ ان کی الانبياء : ٩٦