ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 519
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۱۹ ازالہ اوہام حصہ دوم وہ رسالہ مفت بھی تقسیم کر دیا تا لوگ اس کو پڑھیں اور اپنے پیارے دین کی امداد کے لئے اپنے (۷۷۵ گذشتنی گذاشتنی مالوں میں سے کچھ حق مقرر کریں مگر افسوس کہ بجز چند میرے مخلصوں کے جن کا ذکر میں عنقریب کروں گا کسی نے اس طرف توجہ نہیں کی ۔ میں حیران ہوں کہ کن الفاظ کو استعمال کروں تا میری قوم پر وہ مؤثر ہوں۔ میں سوچ میں ہوں کہ وہ کون سی تقریر ہے جس سے وہ میرے غم سے بھرے ہوئے دل کی کیفیت سمجھ سکیں ۔ اے قادر خدا اُن کے دلوں میں آپ الہام کر اور غفلت اور بدظنی کی رنگ آمیزی سے ان کو باہر نکال اور حق کی روشنی دکھلا ۔ پیار و یقیناً سمجھو کہ خدا ہے اور وہ اپنے دین کو فراموش نہیں کرتا بلکہ تاریکی کے زمانہ میں اس کی مدد فرماتا ہے مصلحت عام کے لئے ایک کو خاص کر لیتا ہے اور اُس پر علوم لدنیہ کے انوار نازل کرتا ہے۔ سو اُسی نے مجھے جگایا اور سچائی کے لئے میرا دل کھول دیا۔ میری روزانہ زندگی کا آرام اسی میں ہے کہ میں اسی کام میں لگا رہوں بلکہ میں اس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا کہ میں اس کا اور اس کے رسول کا اور اس کی کلام کا جلال ظاہر کروں۔ مجھے کسی کی تکفیر کا اندیشہ نہیں (۷۷) اور نہ کچھ پرواہ۔ میرے لئے یہ بس ہے کہ وہ راضی ہو جس نے مجھے بھیجا ہے ۔ ہاں میں اس میں لذت دیکھتا ہوں کہ جو کچھ اُس نے مجھ پر ظاہر کیا وہ میں سب لوگوں پر ظاہر کروں اور یہ میرا فرض بھی ہے کہ جو کچھ مجھے دیا گیا وہ دوسروں کو بھی دوں۔ اور دعوت مولیٰ میں ان سب کو شریک کرلوں جو ازل سے بلائے گئے ہیں۔ میں اس مطلب کے پورا کرنے کے لئے قریباً سب کچھ کرنے کے لئے مستعد ہوں اور جانفشانی کے لئے راہ پر کھڑا ہوں لیکن جو امر میرے اختیار میں نہیں میں خداوند قدیر سے چاہتا ہوں کہ وہ آپ اس کو انجام دیوے۔ میں مشاہدہ کر رہا ہوں کہ ایک دست غیبی مجھے مدد دے رہا ہے۔ اور اگر چہ میں تمام فانی انسانوں کی طرح نا تواں اور ضعیف البنیان ہوں تا ہم میں دیکھتا ہوں کہ مجھے غیب سے قوت ملتی ہے