ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 520 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 520

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۲۰ ازالہ اوہام حصہ دوم اور نفسانی قلق کو دبانے والا ایک صبر بھی عطا ہوتا ہے اور میں جو کہتا ہوں کہ ان الہی کاموں میں قوم کے ہمدرد مدد کریں وہ بے صبری سے نہیں بلکہ صرف ظاہر کے لحاظ اور اسباب کی رعایت ۷۷۷) سے کہتا ہوں۔ ورنہ خدا تعالیٰ کے فضل پر میرا دل مطمئن ہے اور امید رکھتا ہوں کہ وہ میری دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا اور میرے تمام ارادے اور امید میں پوری کر دے گا ۔ اب میں اُن مخلصوں کا نام لکھتا ہوں جنھوں نے حتی الوسع میرے دینی کاموں میں مدددی یا جن پر مدد کی امید ہے یا جن کو اسباب میسر آنے پر طیار دیکھتا ہوں۔ (۱) حتى فى الله مولوی حکیم نوردین صاحب بھیروی۔ مولوی صاحب ممدوح کا حال کسی قدر رسالہ فتح اسلام میں لکھ آیا ہوں لیکن ان کی تازہ ہمدردیوں نے پھر مجھے اس وقت ذکر کرنے کا موقعہ دیا۔ اُن کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے میں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پر بیان کر سکوں ۔ میں نے ان کو طبعی طور پر اور نہایت انشراح صدر سے دینی خدمتوں میں جان شار پایا۔ اگر چہ ان کی روز مرہ زندگی اسی راہ میں وقف ہے۔ کہ وہ ہریک پہلو سے اسلام اور مسلمانوں کے نیچے خادم ہیں مگر اس سلسلہ کے ناصرین میں سے وہ اول درجہ کے نکلے۔ مولوی صاحب موصوف اگر چہ اپنی فیاضی کی وجہ سے اس مصرعہ ۷۷۸) کے مصداق ہیں کہ قرار در کف آزادگان نگیر د مال لیکن پھر بھی انہوں نے بارہ سورو پیر نقد متفرق حاجتوں کے وقت اس سلسلہ کی تائید میں دیا۔ اور اب بیس روپے ماہواری دینا اپنے نفس پر واجب کر دیا اور اس کے سوا اور بھی ان کی مالی خدمات ہیں جو طرح طرح کے رنگوں میں ان کا سلسلہ جاری ہے میں یقینا دیکھتا ہوں کہ جب تک وہ نسبت پیدا نہ ہو جو صحت کو اپنے محبوب سے ہوتی ہے تب تک ایسا انشراح صدر کسی میں پیدا نہیں ہوسکتا۔ اُن کو خدائے تعالی نے اپنے قومی ہاتھ سے اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور طاقت بالا نے خارق عادت اثر اُن پر کیا ہے۔