ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 513 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 513

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۱۳ ازالہ اوہام حصہ دوم خاک کی طرف ہی عود کرتا ہے مِنْهَا خَلَقْنَكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُم لے کیا ایلیا آسمان پر ہی فوت ہوگا یا كُلِّ مَنْ عَلَيْهَا ان سے سے باہر رہے گا۔ اگر سوچ کر دیکھ تو ایلیا کی چادر گرنے والی وہی اس کا وجود تھا جو اس نے چھوڑ دیا اور نیا چولہ پہن لیا۔ کیوں نہیں لوگو تمہیں حق کا خیال دل میں اُٹھتا ہے مرے سو سو اُبال ابن مریم مر گیا حق کی قسم داخل جنت ہوا وہ محترم مارتا ہے اُس کو فرقاں سر بسر اس کے مرجانے کی دیتا ہے خبر وہ نہیں باہر رہا اموات سے ہو گیا ثابت یہ تین آیات سے کوئی مُردوں سے کبھی آیا نہیں یہ تو فرقاں نے بھی بتلا یا نہیں عهد شد از کردگار بے چگوں غور کن در أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ۳ اے عزیزو!! سوچ کر دیکھو ذرا موت سے بچتا کوئی دیکھا بھلا یہ تو رہنے کا نہیں پیارو مکاں چل بسے سب انبیاء و راستاں ہاں نہیں پاتا کوئی اس سے نجات یونہی باتیں ہیں بنائیں واہیات کیوں تمہیں انکار پر اصرار ہے ہے یہ دین یا سیرت کفار ہے برخلاف نص یہ کیا جوش ہے سوچ کر دیکھو اگر کچھ ہوش ہے کیوں بنایا ابن مریم کو خدا سنت اللہ سے وہ کیوں باہر رہا کیوں بنایا اس کو باشان کبیر غیب دان و خالق حتی و قدیر مرگئے سب پر وہ مرنے سے بچا اب تلک آئی نہیں اس پر فنا ہے وہی اکثر پرندوں کا خدا اس خدا دانی پر تیرے مرحبا مولوی صاحب یہی توحید ہے سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے کیا یہی توحید حق کا راز تھا جس پہ برسوں سے تمہیں اک ناز تھا کیا بشر میں ہے خدائی کا نشان الاماں ایسے گماں سے الاماں طه : ۵۶ الرحمن : ۲۷ الانبياء : ٩٦