ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 514
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۱۴ ازالہ اوہام حصہ دوم ہے تعجب آپ کے اس جوش پر فہم پر اور عقل پر اور ہوش پر کیوں نظر آتا نہیں راہ صواب پڑ گئے کیسے یہ آنکھوں پر حجاب کیا یہی تعلیم فرقاں ہے بھلا کچھ تو آخر چاہیے خوف خدا مومنوں پر کفر کا کرنا گماں ہے یہ کیا ایمانداروں کا نشاں ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں دل سے ہیں خدام ختم المرسلیں شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں خاک راہ احمد مختار ہیں سارے حکموں پر ہمیں ایمان ہے جان و دل اس راہ پر قربان ہے پر دے چکے دل اب تن خاکی رہا ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی فدا تم ہمیں دیتے ہو کافر کا خطاب کیوں نہیں لو گو تمہیں خوف عقاب سخت شورے اوفتاد اندر زمیں رحم کن برخلق اے جاں آفریں کچھ نمونہ اپنی قدرت کا دکھا تجھ کو سب قدرت ہے ، اے رب الورا ہے،اے آمین (۶۷) بعض مبائعین کا ذکر اور نیز اس سلسلہ کے معاونین کا تذکرہ اور اسلام کو یورپ اور امریکہ میں پھیلانے کی احسن تجویز کریم پھیلانے اس میں رسالہ فتح اسلام میں کسی قد رلکھ آیا ہوں کہ اسلام کے ضعف اور غربت اور تنہائی کے وقت میں خدائے تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے تا میں ایسے وقت میں جو اکثر لوگ عقل کی بد استعمالی سے ضلالت کی راہیں پھیلا رہے ہیں اور روحانی امور سے رشتہ مناسبت بالکل کھو بیٹھے ہیں اسلامی تعلیم کی روشنی ظاہر کروں ۔ میں