ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 506 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 506

ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳ آیت مذکورہ بالا میں ذکر ہے اسی قسم میں سے ہے اور بعد میں جو آیت ہے كَذلِكَ يُخي الله المَوْلى سل یہ حیات حقیقی کا ثبوت نہیں بلکہ ایک الجو بہ قدرت کے ثابت ہونے سے دوسری قدرت کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ جابجا قرآن شریف میں یہی طریق ہے یہاں تک کہ نباتات کے اُگنے کو احیاء موتی پر دلیل ٹھہرائی گئی ہے اور یہی آیت كَذلِكَ يُخي الله الْمَوتی ان مقامات میں بھی لکھی گئی ہے۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ جو قرآن کریم میں ۷۵۳ چار پرندوں کا ذکر لکھا ہے کہ ان کو اجزاء متفرقہ یعنی جدا جدا کر کے چار پہاڑیوں پر چھوڑا گیا تھا اور پھر وہ بلانے سے آگئے تھے یہ بھی عمل الترب کی طرف اشارہ ہے کیونکہ عمل الترب کے تجارب بتلا رہے ہیں کہ انسان میں جمیع کا ئنات الارض کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے ایک قوت مقناطیسی ہے اور ممکن ہے کہ انسان کی قوت مقناطیسی اس حد تک ترقی کرے کہ کسی پرند یا چرند کو صرف توجہ سے اپنی طرف کھینچ لے۔ فتدبر و لا تغفل۔ اب پھر ہم اصل بحث کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ تمام مقدس لوگ جو اس دنیا سے رخصت ہو گئے وہ دوسرے جہان میں زندہ ہیں۔ چنانچہ جب مسیح سے قیامت کے منکروں نے سوال کیا کہ مُردوں کے جی اُٹھنے پر کیا دلیل ہے تو مسیح نے یہی جواب دیا کہ خدائے تعالیٰ توریت میں فرماتا ہے کہ ابراہیم کا خدا اسحق کا خدا یعقوب کا خدا۔ سو خدا زندوں کا خدا ہوتا ہے نہ مُردوں کا ۔ اس سے مسیح نے اس بات کا اقرار کر لیا کہ ابراہیم اور اسحق اور یعقوب سب زندہ ہیں ۔ اور لعاذر کے قصہ میں بھی مسیح نے ابراہیم کا زندہ ہونا مان لیا ہے اور اب تک عیسائی لوگ اس بات کا ثبوت نہیں دے سکے کہ مسیح کی زندگی کو (۷۵۳) ابراہیم کی زندگی پر کیا ترجیح ہے اور مسیح کی زندگی میں وہ کون سے خاص لوازم ہیں جو ابراہیم کی زندگی میں نہیں ۔ ظاہر ہے کہ اگر ابراہیم کو ایک جسم نہ ملتا تو لعا ذ ر اُس کی گود میں کیوں کر بیٹھتا۔ مسیح نے انجیل میں خود اقرار کر لیا کہ ابراہیم جسم کے سمیت عالم ثانی میں البقرة : ۷۴