ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 496
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۹۶ ازالہ اوہام حصہ دوم شرم آتی ہے کہ باوجود قرائن قویہ کے بھی کسی حدیث کے ظاہری معنے کو چھوڑ سکیں اور قرآن اور حدیث کو باہم تطبیق دے کر ابن مریم سے روحانی طور پر ابن مریم کا مصداق مراد لے لیں اور دجال یک چشم سے روحانی یک چشمی کی تعبیر کر لیں اور قرآن کے انکار سے اپنے تیں بچالیں۔ نہیں سوچتے کہ ابن مریم یا یک چشم کا لفظ بھی اُسی پاک منہ سے نکلا ہے جس سے لمبے ہاتھ کا لفظ نکلا تھا بلکہ لمبے ہاتھ کے حقیقی اور ظاہری معنے مراد ہونے پر تو تصدیق نبوی بھی ہو چکی تھی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو ہی سرکنڈہ کے ساتھ ہاتھ ناپے گئے تھے اور سودہ کے ہاتھ سب سے لمبے نکلے تھے اور یہی قرار پایا تھا کہ ، پہلے سودہ فوت ہوگی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کے ناپتے ر بھی منع نہیں فرمایا تھا جس سے اجماعی طور پر سودھا کی وفات تمام بیویوں سے پہلے یقین کی گئی لیکن آخر کار ظاہری معنے صحیح نہ نکلے جس سے ثابت ہوا کہ اس پیشگوئی کی اصل ۷۳۶ حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی معلوم نہیں تھی ۔ اگر حال کے علماء ذرا سوچیں اور تواریخ کے صفحہ صفحہ پر نظر ڈالیں اور آدم کے وقت سے آج تک جو قریب چھ ہزار برس کے گزرا ہے جس قدر دین حق کے مقابلہ پر فتنہ اندازیاں ہوئی ہیں اُن کا حال کی فتنہ اندازیوں اور کوششوں سے موازنہ کریں تو خود انہیں اقرار کرنا پڑے گا جو باطل کو حق کے ساتھ ملانے کے لئے جس قدر منصو بے اس عیسائی قوم سے ظہور میں آئے اور آرہے ہیں اس کا کروڑم حصہ بھی کسی دوسری قوم سے ہرگز ظہور میں نہیں آیا اگر چہ ناحق کے خون کرنے والے ، کتابوں کے جلانے والے ، راستبازوں کو قید کرنے والے بہت گذرے ہیں مگر اُن کے فتنے دلوں کو تہ و بالا کرنے والے نہیں تھے بلکہ مومن لوگ دکھ اُٹھا کر اور بھی زیادہ استقامت میں ترقی کرتے تھے لیکن اِن لوگوں کا فتنہ دلوں پر ہاتھ ڈالنے والا اور ایمان کو شبہات سے نا پاک کرنے والا ہے جو اعتقادوں کے بگاڑنے کے لئے زہر ہلاہل کا اثر رکھتا ہے۔ خیال کرنے کا مقام ہے کہ جس قوم نے لا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” ہاتھوں کو ناپتے دیکھ کر “ہونا چاہیے۔(ناشر)