ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 489 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 489

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۸۹ ازالہ اوہام حصہ دوم زور کے ساتھ خروج کر رہا ہے اور جو اعداد آیت اِنا عَلى ذَهَابِ بِہ تَقْدِرُونَ سے سمجھا جاتا ہے یعنی ۱۸۵۷ء کا زمانہ * تو ساتھ ہی اس عاجز کا مسیح موعود ہونا بھی ثابت ہو جائے گا۔ اور ہم پہلے بھی تحریر کر آئے ہیں کہ عیسائی واعظوں کا گروہ بلاشبہ دجال معہود ہے۔ اگر چہ ۷۲۳) حدیثوں کے ظاہر الفاظ سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ دجال ایک خاص آدمی ہے جو ایک آنکھ سے کانا اور دوسری بھی عیب دار ہے لیکن چونکہ یہ حدیثیں جو پیشگوئیوں کی قسم سے ہیں مکاشفات کی نوع میں سے ہیں جن پر موافق سنت اللہ کے استعارہ اور مجاز غالب (۷۲۴) ہوتا ہے جیسا کہ ملا علی قاری نے بھی لکھا ہے اور جن کے معنے سلف صالح ہمیشہ استعارہ کے طور پر لیتے رہے ہیں۔ اس لئے بوجہ قرائن قو یہ ہم دجال کے لفظ سے صرف ایک شخص ہی مراد نہیں لے سکتے ۔ رویا اور مکاشفہ میں اسی طرح سنت اللہ واقع ہے کہ بعض اوقات ایک شخص نظر آتا ہے اور اس سے مراد ایک گروہ ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ ۷۲۵) علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک شخص نے ایک عرب کے بادشاہ کو خواب میں دیکھا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ اس سے مراد ملک عرب ہے جو ایک گروہ ہے ۔ اور اس ہمارے بیان پر یہ قرینہ شاہد ناطق ہے کہ دجال در حقیقت لغت کی رو سے اسم جنس ہے آیت إِنَّا عَلَى ذَهَابِ بِه لَقَدِرُونَ میں ۱۸۵۷ء کی طرف اشارہ ہے جس میں ۷۲۲ ہندوستان میں ایک مفسدہ عظیم ہو کر آثار باقیہ اسلامی سلطنت کے ملک ہند سے نا پدید ہو گئے تھے کیونکہ اس آیت کے اعداد بحساب جمل ۱۲۷۴ ہیں اور ۴ ۱۲۷ کے زمانہ کو جب عیسوی تاریخ میں دیکھنا چاہیں تو ۱۸۵۷ء ہوتا ہے۔ سو در حقیقت ضعف اسلام کا زمانہ ابتدائی یہی ۱۸۵۷ء ہے جس کی نسبت خدائے تعالیٰ آیت موصوفہ بالا میں فرماتا ہے کہ جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن زمین پر سے اٹھایا جائے گا۔ سو ایسا ہی ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کی حالت ہو گئی تھی کہ بجز بد چلنی اور فسق و فجور کے اسلام کے رئیسوں کو اور کچھ یاد نہ تھا جس کا اثر عوام پر بھی بہت پڑ گیا تھا انہیں ایام میں انہوں نے ایک ناجائز اور نا گوار طریقہ سے سرکا را نگریزی سے باوجود نمک خوار (۷۲۳ اور رعیت ہونے کے مقابلہ کیا۔ حالانکہ ایسا مقابلہ اور ایسا جہاد ان کے لئے شرعاً جائز نہ تھا ل المؤمنون : ١٩