ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 480 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 480

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۸۰ ازالہ اوہام حصہ دوم ایسا ہی فروری ۱۸۸۶ء میں بمقام ہوشیار پور نشی محمد یعقوب صاحب برا در حافظ محمد یوسف نے میرے پاس بیان کیا کہ مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی مرحوم سے ایک دن میں نے سنا کہ وہ آپ کی نسبت یعنی اس عاجز کی نسبت کہتے تھے کہ میرے بعد ایک عظیم الشان کام کے لئے وہ مامور کئے جائیں گے مگر مجھے یاد نہیں رہا کہ منشی محمد یعقوب صاحب کے منہ سے یہی الفاظ (۷۵) نکلے تھے یا انہیں کے ہم معنے اور الفاظ تھے بہر حال انہوں نے بعض آدمیوں کے رو بروجن میں سے ایک میاں عبداللہ سنوری پٹیالہ کی ریاست کے رہنے والے ہیں اس مطلب کو انہیں الفاظ یا اور لفظوں میں بیان کیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت منشی الہی بخش صاحب اکومنٹنٹ اور کئی اور صاحب میرے مکان پر جو شیخ مہر علی صاحب رئیس کا مکان تھا موجود تھے مگر یہ معلوم نہیں کہ اس جلسہ میں کون کون موجود تھا جب یہ ذکر کیا گیا مگر میاں عبد اللہ سنوری نے میرے پاس بیان کیا کہ میں اس تذکرہ کے وقت موجود تھا اور میں نے اپنے کانوں سے سنا۔ از انجملہ ایک کشف ایک مجذوب کا ہے جو اس زمانہ سے تھیں یا اکتیس برس پہلے اس عالم بے بقا سے گذر چکا ہے۔ جس شخص کی زبان سے میں نے یہ کشف سنا ہے وہ ایک معمر سفید ریش آدمی ہے جس کے چہرہ پر آثار صلاحیت و تقوی ظاہر ہیں جس کی نسبت اس کے جاننے والے بیان کرتے ہیں کہ یہ در حقیقت راست گو اور نیک بخت اور صالح آدمی ہیں یہاں تک کہ مولوی عبد القادر مدرس جمالپور ضلع لدھانہ نے جو ایک صالح آدمی ہے ۷۰۶ اس پیر سفید ریش کی بہت تعریف کی کہ در حقیقت یہ شخص متقی اور متبع سنت اور راست گو ہے۔ اور نہ صرف انہوں نے آپ ہی تعریف کی بلکہ اپنی ایک تحریر میں یہ بھی لکھا کہ مولوی محمد حسن صاحب رئیس لدھیانہ کہ جو گروہ موحدین میں سے ایک منتخب اور شریف اور غایت درجہ کے خلیق اور بُردبار اور ثقہ ہیں جن کے والد صاحب مرحوم کا جو ایک باکمال بزرگ تھے یہ سفید ریش بڑھا قدیمی دوست اور ہم قوم اور پرانے زمانہ سے تعارف