ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 479 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 479

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۷۹ ازالہ اوہام حصہ دوم اور اُن کے علماء اور اُن کے فقراء اور اُن کے مشائخ اور اُن کے صلحاء اور اُن کے مرد اور اُن کی عورتیں مجھے کا ذب خیال کر کے پھر میرے مقابل پر دیکھنا چاہیں کہ قبولیت کے نشان مجھ میں ہیں یا اُن میں۔ اور آسمانی دروازے مجھ پر کھلتے ہیں یا اُن پر ۔ اور وہ محبوب حقیقی اپنی خاص عنایات اور اپنے علوم لدنیہ اور معارف روحانیہ کے القاء کی وجہ سے میرے ساتھ ہے یا اُن ۷۰۳) کے ساتھ ۔ تو بہت جلد اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہ خاص فضل اور خاص رحمت جس سے دل مورد فیوض کیا جاتا ہے اسی عاجز پر اس کی قوم سے زیادہ ہے۔ کوئی شخص اس بیان کو تکبر کے رنگ میں نہ سمجھے بلکہ یہ تحدیث نعمت کی قسم میں سے ہے و ذلك فضل الله يؤتيه من یشاء ۔ اسی کی طرف اشارہ ان الہامات میں ہے قل انی امرت و انا اول المؤمنين الحمد لله الذي اذهب عنى الحزن واتانى ما لم يؤت احد من العلمين - احد من العلمین سے مراد زمانہ حال کے لوگ یا آئندہ زمانہ کے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ از انجمله بعض مکاشفات مولوی عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم ہیں جو اس عاجز کے زمانہ ظہور سے پہلے گذر چکے ہیں۔ چنانچہ ایک یہ ہے کہ آج کی تاریخ ۷ اجون ۱۸۹۱ء سے عرصہ چار ماہ کا گذرا ہے کہ حافظ محمد یوسف صاحب جو ایک مرد صالح بے ریا متقی اور متبع سنت اور اول درجہ کے رفیق اور مخلص مولوی عبداللہ صاحب غزنوی ہیں وہ قادیان میں اس عاجز کے پاس آئے اور باتوں کے سلسلہ میں بیان کیا کہ مولوی عبداللہ صاحب مرحوم نے اپنی وفات (۷۰۴ ) سے کچھ دن پہلے اپنے کشف سے ایک پیشگوئی کی تھی کہ ایک نور آسمان سے قادیان کی طرف نازل ہوا مگر افسوس کہ میری اولا د اس سے محروم رہ گئی ۔ فقط ایک صاحب غلام نبی نارو والے نام اپنے اشتہار مرقومہ دوم ذیقعدہ میں لکھتے ہیں کہ یہ افتراء ہے اگر افتراء نہیں تو اُس راوی کا نام لینا چاہیے جس کے روبرو مولوی صاحب مرحوم نے بیان کیا۔ سواب ہم نے بیان کر دیا کہ وہ راوی کون ہے اور کس درجہ کا آدمی ہے۔ چاہیے کہ حافظ صاحب سے دریافت کریں کہ افترا ہے یا کچی بات ہے۔ و من اظلم ممن افترى او كذب و ابی۔