ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 474
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۷۴ ازالہ اوہام حصہ دوم از انجملہ ایک یہ کہ ضرور تھا کہ آنے والا ابن مریم الف ششم کے آخر میں پیدا ہوتا کیونکہ ظلمت عامہ اور تامہ کے عام طور پر پھیلنے کی وجہ سے اور حقیقت انسانیہ پر ایک فنا طاری ہونے کے باعث سے وہ روحانی طور پر ابو البشر یعنی آدم کی صورت پر پیدا ہونے والا ہے اور بڑے علامات اور نشان اُس کے وقت ظہور کے انجیل اور فرقان میں یہ لکھتے ہیں کہ اس سے پہلے روحانی طور پر عالم کون میں ایک فساد پیدا ہو جائے گا۔ آسمانی نور کی جگہ دخان لے لے گا اور ایک عالم پر دخان کی تاریکی طاری ہو جائے گی۔ ستارے گر جائیں گے زمین پر ایک سخت زلزلہ آ جائے گا۔ مرد جو حقیقت کے طالب ہوتے ہیں تھوڑے رہ جائیں گے۔ اور دنیا میں کثرت سے عورتیں پھیل جائیں گی یعنی سفلی لذات کے طالب بہت ہو جائیں گے جو سفلی خزائن اور دفائن کو زمین سے باہر نکالیں گے مگر آسمانی خزائن سے بے بہرہ ہو جائیں گے تب وہ آدم جس کا دوسرا نام ابن مریم بھی ہے بغیر وسیلہ ہاتھوں کے پیدا کیا جائے گا اسی کی طرف ۶۹۴ وہ الہام اشارہ کر رہا ہے جو براہین میں درج ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے اردت ان استخلف فخلقت آدم یعنی میں نے ارادہ کیا جو اپنا خلیفہ بناؤں سو میں نے آدم کو پیدا کیا ۔ آدم اور ابن مریم در حقیقت ایک ہی مفہوم پر مشتمل ہے ۔ صرف اس قدر فرق ہے کہ آدم کا لفظ قحط الرجال کے زمانہ پر ایک دلالت تامہ رکھتا ہے اور ابن مریم کا لفظ دلالت نا قصہ مگر دونوں لفظوں کے استعمال سے حضرت باری کا مدعا اور مراد ایک ہی ہے۔ اسی کی طرف اس الہام کا بھی اشارہ ہے جو براہین میں درج ہے اور وہ یہ ہے ان السموات والارض كانتا رتقا ففتقناهما ۔ كنت كنزا مخفيا فاحببت ان اعرف یعنی زمین و آسمان بند تھے اور حقائق و معارف پوشیدہ ہو گئے تھے سو ہم نے اُن کو اس شخص کے بھیجنے سے کھول دیا۔ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا سو میں نے چاہا کہ شناخت کیا جاؤں۔ اب جبکہ اس تمام تقریر سے ظاہر ہوا کہ ضرور ہے کہ آخر الخلفاء آدم کے نام پر آتا۔