ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 468
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۶۸ ازالہ اوہام حصہ دوم اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ خدائے تعالیٰ نے اگر چہ ایک طرز جدید سے قرآن کریم میں صاف طور پر بیان کر دیا کہ آخری خلیفہ اسلام کے الہی خلیفوں کا روحانی طور پر ایسے خلیفہ کا روپ ۱۸۲﴾ اور رنگ لے کر آئے گا جو اسرائیلی خلیفوں میں سے آخری خلیفہ تھا یعنی مسیح ابن مریم لیکن کیا وجہ کہ خدائے تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں مسیح ابن مریم کا بصراحت نام لیا۔ گو مطلب و ہی نکل آیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تا لوگ غلط فہمی سے بلا میں نہ پڑ جائیں کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ صاف طور پر نام لے کر بیان کر دیتا کہ اس اُمت کا آخری خلیفہ یہی مسیح ابن مریم ہی ہو گا تو نادان مولویوں کے لئے بلا پر بلا پیدا ہو جاتی اور غلط نہی کی آفت ترقی کر جاتی ۔ سو خدائے تعالیٰ نے اپنے بیان میں دو مسلک اختیار کرنا پسند رکھا۔ ایک وہ مسلک جو حدیثوں میں ہے جس میں ابن مریم کا لفظ موجود ہے اور دوسرا وہ مسلک جو قرآن کریم میں ہے جس کا ابھی بیان ہو چکا ہے۔ اب ثبوت اس بات کا کہ وہ مسیح موعود جس کے آنے کا قرآن کریم میں وعدہ دیا گیا ہے یہ عاجز ہی ہے۔ ان تمام دلائل اور علامات اور قرائن سے جو ذیل میں لکھتا ہوں ہر یک طالب حق پر بخوبی کھل جائے گا۔ از انجملہ ایک یہ ہے کہ یہ عاجز ایسے وقت میں آیا ہے جس وقت میں مسیح موعود آنا ۶۸۳ چاہیے تھا کیونکہ حدیث الآيات بعد المأتين جس کے یہ معنے ہیں کہ آیات کبری تیرھویں صدی میں ظہور پذیر ہوں گی اسی پر قطعی اور یقینی دلالت کرتی ہے کہ مسیح موعود کا تیرھویں صدی میں ظہور یا پیدائش واقع ہو۔ بات یہ ہے کہ آیات صغری تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت مبارک سے ہی ظاہر ہونی شروع ہو گئی تھیں ۔ پس بلا شبہ الآیات سے آیات کبری مراد ہیں جو کسی طرح سے دو سو برس کے اندر ظاہر نہیں ہو سکتی تھیں لہٰذا علماء کا اسی پر اتفاق ہو گیا ہے کہ بعد المأتین سے مراد تیرھویں صدی ہے اور الآیات سے مراد آیات کبری ہیں جو ظہور مسیح موعود اور دجال اور یا جوج ماجوج وغیرہ ہیں اور ہر یک شخص