ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 467
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۶۷ ازالہ اوہام حصہ دوم دروازہ کھولا گیا ہے اور خدائے تعالیٰ نے ارادہ کر لیا ہے کہ تا قرآن کریم کے عجائبات مخفیہ اس دنیا کے متکبر فلسفیوں پر ظاہر کرے۔ اب نیم ملاں دشمن اسلام اس ارادہ کو روک نہیں سکتے ۔ اگر اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئیں گے تو ہلاک کئے جائیں گے اور قہری طمانچہ حضرت قہار کا ایسا (۲۸۰) لگے گا کہ خاک میں مل جائیں گے۔ ان نادانوں کو حالت موجودہ پر بالکل نظر نہیں ۔ چاہتے ہیں کہ قرآن کریم مغلوب اور کمزور اور ضعیف اور حقیر سا نظر آوے لیکن اب وہ ایک جنگی بہادر کی طرح نکلے گا۔ ہاں وہ ایک شیر کی طرح میدان میں آئے گا اور دنیا کے تمام فلسفہ کو کھا جائے گا اور اپنا غلبہ دکھائے گا اور لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلَّه کی پیشگوئی کو پوری کر دے گا اور پیشگوئی وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ کو روحانی طور سے کمال تک پہنچائے گا کیونکہ دین کا زمین پر بوجہ کمال قائم ہو جانا محض جبر اور اکراہ سے ممکن نہیں۔ دین اس وقت زمین پر قائم ہوتا ہے کہ جب اس کے مقابل پر کوئی دین کھڑا نہ رہے اور تمام مخالف سپر ڈال دیں۔ سواب وہی وقت آ گیا۔ اب وہ وقت نادان مولویوں کے روکنے سے رک نہیں سکتا ۔ اب وہ ابن مریم جس کا روحانی باپ زمین پر بحجر معلم حقیقی کے کوئی نہیں جو اس وجہ سے آدم سے بھی مشابہت رکھتا ہے بہت سا خزانہ قرآن کریم کا لوگوں میں تقسیم کرے گا یہاں تک کہ لوگ قبول کرتے کرتے تھک (۶۸۱) جائیں گے اور لا یقبلہ احد کا مصداق بن جائیں گے اور ہر یک طبیعت اپنے ظرف کے مطابق پر ہو جائے گی۔ وہ خلافت جو آدم سے شروع ہوئی تھی خدائے تعالیٰ کی کامل اور بے تغیر حکمت نے آخر کار آدم پر ہی ختم کر دی یہی حکمت اس الہام میں ہے کہ اردت ان استخلف فخلقت آدم یعنی میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو میں نے آدم کو پیدا کر دیا۔ چونکہ استدارت زمانہ کا یہی وقت ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ اس پر ناطق ہیں اس لئے خدائے تعالیٰ نے آخر اور اول کے لفظ کو ایک ہی کرنے کے لئے آخری خلیفہ کا نام آدم رکھا اور آدم اور عیسی میں کسی وجہ سے روحانی مبائنت نہیں بلکہ مشابہت ہے إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ أَدَمَ لِ ال عمران : ۶۰