ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 466
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۶۶ ازالہ اوہام حصہ دوم مجموعی عجائبات سے بہت بڑھ کر ہیں اور اُن کا انکار در حقیقت قرآن کریم منجانب اللہ ہونے کا انکار ہے کیونکہ دنیا میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے صادر ہو اور اُس میں بے انتہا عجائبات نہ پائے جائیں۔ اب یہ عذر کہ اگر ہم قرآن کریم کے ایسے دقائق و معارف بھی مان لیں جو پہلوں نے دریافت نہیں کئے تو اس میں اجماع کی کسرشان ہے۔ گویا ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ جو پہلے اماموں کو معلوم نہیں ہوا تھا وہ ہم نے معلوم کر لیا۔ یہ خیال ان ملا لوگوں کا بالکل فاسد ہے۔ اُن کو سوچنا چاہیے کہ جبکہ یہ ممکن ہے کہ بعض نباتات وغیرہ میں زمانہ حال میں کوئی ایسی خاصیت ثابت ہو جائے جو پہلوں پر نہیں کھلی تو کیا یہ ممکن نہیں کہ قرآن کریم کے بعض عجیب حقائق و معارف اب ایسے کھل جائیں جو پہلوں پر کھل نہیں سکے کیونکہ اس وقت اُن کے کھلنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔ ہاں ایمان اور عقائد کے متعلق جو ضروری پاتے ہیں جو شریعت سے علاقہ رکھتے ہیں جو مسلمان بننے کے لئے ضروری ہیں۔ وہ تو ہریک کی اطلاع کے لئے کھلے کھلے بیان کے ساتھ قرآن شریف میں درج ہیں لیکن وہ نکات و (۱۷۹) حقائق جو معرفت کو زیادہ کرتے ہیں وہ ہمیشہ حسب ضرورت کھلتے رہتے ہیں اور نئے نئے فسادوں کے وقت نئے نئے پر حکمت معانی بمنصہ ظہور آتے رہتے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ قرآن کریم بذات خود معجزہ ہے اور بڑی بھاری وجہ اعجاز کی اس میں یہ ہے کہ وہ جامع حقائق غیر متناہیہ ہے مگر بغیر وقت کے وہ ظاہر نہیں ہوتے ۔ جیسے جیسے وقت کی مشکلات تقاضہ کرتی ہیں وہ معارف خفیہ ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ دیکھو د نیوی علوم جو اکثر مخالف قرآن کریم اور غفلت میں ڈالنے والے ہیں۔ کیسے آج کل ایک زور سے ترقی کر رہے ہیں اور زمانہ اپنے علوم ریاضی اور طبعی اور فلسفہ کی تحقیقا توں میں کیسی ایک عجیب طور کی تبدیلیاں دکھلا رہا ہے۔ کیا ایسے نازک وقت میں ضرور نہ تھا کہ ایمانی اور عرفانی ترقیات کے لئے بھی دروازہ کھولا جاتا تا شرور محدثہ کی مدافعت کے لئے آسانی پیدا ہو جاتی ۔ سو یقینا سمجھو کہ وہ