ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 465 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 465

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۶۵ ازالہ اوہام حصہ دوم چھپے ہوئے ہیں جو ہر ایک قسم کے ادیان فلسفیہ و غیر فلسفیہ کو مقہور و مغلوب کرتے ہیں اُن کے ظہور کا زمانہ یہی تھا۔ کیونکہ وہ بجر تحریک ضرورت پیش آمدہ کے ظاہر نہیں ہو سکتے تھے سواب مخالفانہ حملے جو نئے فلسفہ کی طرف سے ہوئے تو اُن معارف کے ظاہر ہونے کا وقت آگیا اور ممکن نہیں تھا کہ بغیر اس کے کہ وہ معارف ظاہر ہوں اسلام تمام ادیان باطلہ پر فتح پا سکے کیونکہ سیفی فتح کچھ چیز نہیں اور چند روزہ اقبال کے دور ہونے سے وہ فتح بھی معدوم ہو جاتی ہے۔ کچی اور حقیقی فتح وہ ہے جو معارف اور حقائق اور کامل صداقتوں کے لشکر کے ساتھ حاصل ہو ۔ سودہ یہ فتح ہے جواب اسلام کو نصیب ہو رہی ہے۔ بلاشبہ یہ پیشگوئی اسی زمانہ کے حق میں ہے اور سلف صالح بھی ایسا ہی سمجھتے آئے ہیں۔ یہ زمانہ در حقیقت ایک ایسا زمانہ ہے جو بالطبع تقاضا کر رہا ہے جو قرآن شریف اپنے اُن تمام بطلون کو ظاہر کرے جو اس کے اندر مخفی چلے آتے ہیں کیونکہ بطنی معارف قرآن کریم کے جن کا وجود احادیث صحیحہ اور آیات ہینہ سے ثابت ہے فضول طور پر کبھی ظہور نہیں کرتے بلکہ یہ معجزہ فرقانی ایسے ہی وقت میں اپنا جلوہ دکھاتا ہے جبکہ اس روحانی معجزہ کے ظہور کی اشد ضرورت پیش آتی ہے۔ سو اس زمانہ میں کامل طور پر یہ ضرورتیں پیش آگئی ہیں۔ انسانوں نے مخالفانہ علوم میں بہت ترقی کر لی ہے اور کچھ شک نہیں کہ اگر اس نازک وقت میں بطنی علوم قرآن کریم کے ظاہر نہ ہوں گے تو موٹی تعلیم جس پر حال کے علماء قائم ہیں کبھی اور کسی صورت میں مقابلہ مخالفین کا نہیں کر سکتے اور ان کو مغلوب کرنا تو کیا خود مغلوب ہو جانے کے قومی خطرہ میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ یہ بات ہر یک فہیم کو جلدی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اللہ جل شانہ کی کوئی مصنوع دقائق وغرائب خواص سے خالی نہیں ۔ اور اگر ایک مکھی کے خواص اور عجائبات کی قیامت تک تفتیش و تحقیقات کرتے جا ئیں تو وہ بھی کبھی ختم نہیں ہو سکتی ۔ تو اب سوچنا چاہیے کہ کیا خواص و عجائبات قرآن کریم کے اپنے قدر واندازہ میں لکھی جتنے بھی نہیں۔ بلا شبہ وہ عجائبات تمام مخلوقات کے ﴿۶۷۸)