ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 464
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۶۴ ازالہ اوہام حصہ دوم ۱۴۰۰ جس کا محض خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے تولد ہوتا جس کا آسمان پر ابن مریم نام ہے تو کیوں خدائے تعالیٰ کی قادریت اس ابن مریم کے پیدا کرنے سے مجبور رہ سکتی ۔ سو اُس نے محض اپنے فضل سے بغیر وسیلہ کسی زمینی والد کے اس ابن مریم کو روحانی پیدائش اور روحانی زندگی بخشی جیسا کہ اس نے خود اس کو اپنے الہام میں فرمایا تم احييناك بعد ما اهلكنا القرون الاولى و جعلناک المسیح ابن مریم یعنی پھر ہم نے تجھے زندہ کیا بعد اس کے جو پہلے قرنوں کو ہم نے ہلاک کر دیا اور تجھے ہم نے مسیح ابن مریم بنایا یعنی بعد اس کے جو عام طور پر مشائخ اور علماء میں موت روحانی پھیل گئی ۔ انجیل میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ صیح ستاروں کے گرنے کے بعد آئے گا۔ (۲۷۵) اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کی آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیشگوئی موجود ہے۔ قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی چودہ سو برس تک مدت ٹھہرائی ہے بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رُو سے اس مدت کو مانتے ہیں اور آیت وَإِنَّا عَلَى ذَهَابِ بِہ تَقْدِرُونَ ہے جس کے بحساب جمل ۱۲۷۴ عدد ہیں۔ اسلامی چاند کی سطح کی راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں نئے چاند کے نکلنے کی اشارت چھپی ہوئی ہے جو غلام <mark><mark>احمد</mark></mark> قادیانی کے عددوں میں بحساب جمل پائی جاتی ہے اور یہ آیت که هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله : در حقیقت اسی مسیح ابن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے کیونکہ تمام ادیان پر روحانی غلبہ بجز اس زمانہ کے کسی اور زمانہ میں ہرگز ممکن نہیں تھا وجہ یہ کہ یہی زمانہ ہے کہ جس میں ہزار ہا قسم کے اعتراضات اور شبہات پیدا ہو گئے ہیں اور انواع اقسام کے عقلی حملے اسلام پر کئے گئے ہیں اور خدائے تعالیٰ فرماتا ہے وَاِنْ مِنْ شَيْ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَابِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُةَ (۲۷۱) إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوم کے یعنی ہر یک چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں مگر بقدر معلوم اور بقدر ضرورت ہم اُن کو اُتارتے ہیں۔ سو جس قدر معارف و حقائق بطون قرآن کریم میں ل المؤمنون : ١٩ الصف :١٠ الحجر :٢٢