ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 463 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 463

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۶۳ ازالہ اوہام حصہ دوم دو سلسلوں کی مماثلت میں یہی قاعدہ ہے کہ اول اور آخر میں اشد درجہ کی مشابہت اُن میں ہوتی ہے کیونکہ ایک لمبے سلسلہ اور ایک طولانی مدت میں تمام درمیانی افراد کا مفصل حال معلوم کرنا طول بلا طائل ہے۔ پس جبکہ قرآن شریف نے صاف صاف بتلا دیا کہ خلافت اسلامی کا سلسلہ اپنی ترقی اور تنزل اور اپنی جلالی اور جمالی حالت کی رو سے خلافت اسرائیلی سے بکلی مطابق و مشابہ ومماثل ہوگا اور یہ بھی بتلا دیا کہ نبی عربی امی مثیل موسیٰ ہے تو اس ضمن میں قطعی اور یقینی (۱۷۳) طور پر بتلایا گیا کہ جیسے اسلام میں سر دفتر الہی خلیفوں کا مثیل موسیٰ ہے جو اس سلسلہ اسلامیہ کا سپہ سالار اور بادشاہ اور تخت عزت کے اول درجہ پر بیٹھنے والا اور تمام برکات کا مصدر اور اپنی روحانی اولاد کا مورث اعلیٰ ہے صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ایسا ہی اس سلسلہ کا خاتم با عتبار نسبت تا مہ وہ مسیح عیسی بن مریم ہے جو اس اُمت کے لوگوں میں سے بحکم ربی مسیحی صفات سے رنگین ہو گیا ہے اور فرمان جَعَلْنَاكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ نے اُس کو درحقیقت وہی بنا دیا ہے وَكَانَ الله عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا ۔ اور اس آنے والے کا نام جو <mark><mark>احمد</mark></mark> رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ <mark><mark>محمد</mark></mark> جلالی نام ہے اور <mark><mark>احمد</mark></mark> جمالی ۔ اور <mark><mark>احمد</mark></mark> اور عیسی اپنے جمالی معنوں کی رُو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمةَ <mark><mark>أَحْمَدُ</mark></mark> مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فقط <mark><mark>احمد</mark></mark> ہی نہیں بلکہ <mark><mark>محمد</mark></mark> بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیشگوئی مجرد <mark><mark>احمد</mark></mark> جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔ وہ حی و قیوم خدا جو اس بات پر قادر ہے (۲۷۴) جو انسان کو حیوان بلکہ شر الحیوانات بنا دے جیسا کہ اس نے فرمایا ہے جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ کے اور فرمایا کہ كُونُوا قِرَدَةً خَبِيْن " کیا وہ ایک انسان کو دوسرے انسان کی صورت مثالی پر نہیں بنا سکتا ۔ بلى و هو بكل خلق علیم ۔ پھر جب کہ انسانیت کی حقیقت پر فا طاری ہونے کے وقت میں ایک ایسے ہی انسان کی ضرورت تھی الاحزاب : ۲۸ ۲ الصف : المائدة : ٦١ البقرة : ٦٦