ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 447 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 447

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۴۷ ازالہ اوہام حصہ دوم یا مرنے کے بعد پھر زندہ ہو کر آ گئے تھے۔ کیا آپ لوگ جب مسجدوں میں بیٹھ کر قرآن کریم کا ترجمہ پڑھاتے ہیں تو ان آیات کے معنے یہ سمجھایا کرتے ہیں کہ ان آیات کے مخاطبین ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد رسالت تک بقید حیات تھے یا قبروں سے زندہ ہو کر پھر دنیا میں آگئے تھے ۔ اگر کوئی طالب علم آپ سے سوال کرے کہ ان آیات کے ظاہر مفہوم سے تو یہی معنے نکلتے ہیں کہ مخاطب وہی لوگ ہیں جو حضرت موسیٰ اور دوسرے نبیوں کے وقت موجود تھے کیا اب یہ اعتقاد رکھا جائے کہ وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں زندہ تھے (۶۲۳ یا زندہ ہو کر پھر دنیا میں آگئے تھے۔ تو کیا آپ کا یہی جواب نہیں کہ بھائی وہ تو سب فوت ہو گئے اور اب مجازی طور پر مخاطب اُن کی نسل ہی ہے جو اُن کے کاموں پر راضی ہے گویا انہیں کا وجود ہے یا یوں کہو کہ گویا وہی ہیں۔ تو اب سمجھ لو کہ یہی مثال ابن مریم کے نزول کی ہے۔ سنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ مراتب وجود دوری ہیں اور بعض کے ارواح بعض کی صورت مثالی لے کر اس عالم میں آتے ہیں اور روحانیت ان کی بکلی ایک دوسرے پر منطبق ہوتی ہے۔ آیت تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ لے کو غور سے پڑھو اس بات کو خوب غور سے سوچنا چاہیے کہ ابن مریم کے آنے کی اس اُمت میں کیا ضرورت تھی اور یہ بات کس حکمت اور سرمخفی پر مبنی ہے کہ ابن مریم کے آنے کی خبر دی گئی داؤ د یا موسیٰ یا سلیمان کے آنے کی خبر نہیں دی گئی ۔ اس کی کیا حقیقت ہے اور کیا اصل ہے اور کیا بھید ہے۔ سو جب ہم عمیق نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سطحی خیال کو چھوڑ کر غور کرتے کرتے بحر تدبر اور تفکر میں بہت نیچے چلے جاتے ہیں تو اس گہرا غوطہ مارنے سے یہ گو ہر معرفت ہمارے ہاتھ آتا ہے کہ اس پیشگوئی کے بیان کرنے سے اصل ۲۴۴ مطلب یہ ہے کہ تا محمد مصطفے حبیب اللہ اور موسیٰ کلیم اللہ میں جوعند اللہ مماثلت تامہ ہے اور اُن کی اُمتوں پر جو احسانات حضرت احدیت متشابہ اور متشاکل طور پر واقع ہیں اُن کو بتصریح بپایہ ثبوت پہنچایا جائے ۔ اور ظاہر ہے کہ موسوی شریعت کے آخری زمانہ میں بہت کچھ البقرة : ١١٩