ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 441 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 441

روحانی خزائن جلد ۳ امام ازالہ اوہام حصہ دوم پھر دوسروں کی کیا مدد کرے گا۔ ماسوا اس کے یہ بھی یادر ہے کہ رحمانی الہامات اپنے بابرکت نشانوں سے شناخت کئے جاتے ہیں۔ کوئی دعویٰ بغیر دلیل کے قبول کرنے کے لائق نہیں ہوتا ۔ خداوند علیم و حکیم اس بات کو خوب جانتا ہے کہ اس عاجز نے صرف ایسی صورت میں اپنے الہامات کو منجانب اللہ (۲۳۲) سمجھا کہ جب صد با الہامی پیشگوئیاں روز روشن کی طرح پوری ہو گئیں۔ سو جو شخص اس عاجز کے مقابل پر کھڑا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے الہامات کے منجانب اللہ ہونے کے اثبات میں میری طرح کسی قدر پیشگوئیاں بیان کرے۔ بالخصوص ایسی پیشگوئیاں جو فضل اور احسان باری تعالیٰ پر دلالت کرتی ہوں۔ کیونکہ مقبولین کی شناخت کے لئے ایسی ہی پیشگوئیاں عمدہ دلیل ہیں جو کسی آئندہ عنایات بینہ کا وعدہ دیتی ہوں ۔ وجہ یہ کہ خدا تعالیٰ انہیں پر فضل و احسان کرتا ہے جن کو بنظر عنایت دیکھتا ہے۔ جن پیشگوئیوں کی سچائی پر میری سچائی کا حصر ہے وہ یہ ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو مغلوب ہو کر یعنی بظاہر مغلوبوں کی طرح حقیر ہو کر پھر آخر غالب ہو جائے گا اور انجام تیرے لئے ہوگا اور ہم وہ تمام بوجھ تجھ سے اتارلیں گے جس نے تیری کمر توڑ دی۔ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ تیری توحید تیری عظمت تیری کمالیت پھیلا دے خدا تعالیٰ تیرے چہرہ کو ظاہر کرے گا اور تیرے سایہ کو لمبا کر دے گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا ۶۳۳ پر دنیا نے اُسے قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا ۔ عنقریب اسے ایک ملک عظیم دیا جائے گا (یعنی اُس کو قبولیت بخشی جائے گی اور خلق کثیر کے دل اس کی طرف مائل کئے جائیں گے ) اور خزائن اُس پر کھولے جائیں گے (یعنی خزائن معارف و حقائق کھولے جائیں گے کیونکہ آسمانی مال جو خدائے تعالیٰ کے خاص بندوں کو ملتا ہے جس کو وہ دنیا میں تقسیم کرتے ہیں ۔ دنیا کا درم و دینار نہیں بلکہ حکمت و معرفت ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اس کی طرف اشارہ کر کے