ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 434
روحانی خزائن جلد ۳ مسم ازالہ اوہام حصہ دوم (۲۴) چوبیسویں آیت یہ ہے اللهُ الَّذِی خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمل الجزو نمبر ۲۱ سورۃ الروم ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنا قانون قدرت یہ بتلاتا ہے کہ انسان کی زندگی میں صرف چار واقعات ہیں۔ پہلے وہ پیدا کیا جاتا ہے پھر تکمیل اور تربیت کے لئے روحانی اور جسمانی طور پر رزق مقسوم اُسے ملتا ہے پھر اس پر موت وارد ہوتی ہے۔ پھر وہ زندہ کیا جاتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان آیات میں کوئی ایسا کلمہ استثنائی نہیں جس کی (۱۹) رو سے مسیح کے واقعات خاصہ باہر رکھے گئے ہوں حالانکہ قرآن کریم اول سے آخر تک یہ التزام رکھتا ہے کہ اگر کسی واقعہ کے ذکر کرنے کے وقت کوئی فرد بشر باہر نکالنے کے لائق ہو تو فی الفور اس قاعدہ کلیہ سے اس کو باہر نکال لیتا ہے یا اس کے واقعات خاصہ بیان کر دیتا ہے۔ (۲۵) پچیسویں آیت یہ ہے كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ سے الجز و نمبر ۲۷ سورۃ الرحمان یعنی هر یک چیز جو زمین میں موجود ہے اور زمین سے نکلتی ہے وہ معرض فنا میں ہے یعنی دمبدم فنا کی طرف میل کر رہی ہے۔ مطلب یہ کہ ہر یک جسم خاکی کو نابود ہونے کی طرف ایک حرکت ہے اور کوئی وقت اس حرکت سے خالی نہیں۔ وہی حرکت بچہ کو جوان کر دیتی ہے اور جو ان کو بڑھا اور بڑھے کو قبر میں ڈال دیتی ہے اور اس قانون قدرت سے کوئی باہر نہیں۔ خدائے تعالیٰ نے کان کا لفظ استعمال کیا یفنی نہیں کہا تا معلوم ہو کہ فنا ایسی چیز نہیں کہ کسی آئندہ زمانہ میں یکدفعہ واقعہ ہوگی بلکہ سلسلہ فنا کا ساتھ ساتھ جاری ہے (۱۲۰) لیکن ہمارے مولوی یہ گمان کر رہے ہیں کہ مسیح ابن مریم اسی فانی جسم کے ساتھ جس میں بموجب نص صریح کے ہر دم فنا کام کر رہی ہے بلا تغیر و تبدل آسمان پر بیٹھا ہے اور زمانہ اُس پر اثر نہیں کرتا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی مسیح کو کائنات الارض میں سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا ۔ الروم : الرحمن : ۲۸،۲۷