ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 435
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۳۵ ازالہ اوہام حصہ دوم اے حضرات مولوی صاحبان کہاں گئی تمہاری تو حید اور کہاں گئے وہ لمبے چوڑے دعوے اطاعت قرآن کریم کے هل منكم رجل في قلبه عظمة القرآن مثقال ذرة؟ (۲۶) چھبیسویں آیت إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّتٍ وَنَهَرٍ فِى مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْكَ مُقْتَدِر الجزو نمبر ٢٧ سورة القمر یعنی متقی لوگ جو خدائے تعالیٰ سے ڈر کر ہر یک قسم کی سرکشی کو چھوڑ دیتے ہیں وہ فوت ہونے کے بعد جنات اور نہر میں ہیں صدق کی نشست گاہ میں با اقتدار بادشاہ کے پاس۔ اب ان آیات کی رو سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے دخول جنت اور مقعد صدق میں تلازم رکھا ہے یعنی خدائے تعالی کے پاس پہنچنا اور جنت میں (۱۲) داخل ہونا ایک دوسرے کا لازم ٹھہرایا گیا ہے۔ سواگر رَافِعُكَ اِلَی کے یہی معنے ہیں جو مسیح خدائے تعالی کی طرف اٹھایا گیا تو بلا شبہ وہ جنت میں بھی داخل ہو گیا جیسا کہ دوسری آیت یعنی از جعى إلى رَبَّكِ ! جو رافعک السی کے ہم معنی ہے بصراحت اسی پر دلالت کر رہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالی کی طرف اٹھائے جانا اور گزشتہ مقربوں کی جماعت میں شامل ہو جانا اور بہشت میں داخل ہو جانا یہ تینوں مفہوم ایک ہی آن میں پورے ہو جاتے ہیں۔ پس اس آیت سے بھی مسیح ابن مریم کا فوت ہونا ہی ثابت ہوا۔ فالحمد لله الذى احق الحق وابطل الباطل ونصر عبده وايد ماموره (۲۷) ستائیسویں آیت یہ ہے اِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى ، أو ليك عَنْهَا مُبْعَدُونَ لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا وَهُمْ فِى مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَلِدُونَ یعنی جو لوگ جنتی ہیں اور اُن کا جنتی ہونا ہماری طرف سے قرار پاچکا ہے ۔ وہ دوزخ (۲۲) سے دور کئے گئے ہیں اور وہ بہشت کی دائمی لذات میں ہیں ۔ اس آیت سے مراد القمر: ۵۶،۵۵ الفجر : ٢٩ الانبياء : ۱۰۳۱۰۲