ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 433

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۳۳ ازالہ اوہام حصہ دوم (۲۲) بائیسویں آیت یہ ہے فَسْتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ! یعنی اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور اُن کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو تا اصل حقیقت تم پر منکشف ہو جاوے۔ سو جب ہم نے موافق حکم اس آیت کے اہل کتاب یعنی یہود اور نصاری کی کتابوں کی طرف رجوع کیا اور معلوم کرنا چاہا کہ کیا اگر کسی نبی گذشتہ کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہو تو وہی آجاتا ہے یا ایسی عبارتوں کے کچھ اور معنے ہوتے ہیں تو معلوم ہوا کہ اسی امر متنازعہ فیہ کا ہمشکل ایک مقدمہ حضرت مسیح ابن مریم آپ ہی فیصل کر چکے ہیں اور اُن کے فیصلہ کا ہمارے فیصلہ کے ﴿۲۷﴾ ساتھ اتفاق ہے۔ دیکھو کتاب سلاطین و کتاب ملا کی نبی اور انجیل جو ایلیا کا دوبارہ آسمان سے اتر نا کس طور سے حضرت مسیح نے بیان فرمایا ہے۔ (۲۳) تیسویں آیت يَا يَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَجِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ! یعنی اے نفس بحق آرام یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ۔ پھر اس کے بعد میرے ان بندوں میں داخل ہو جا جو دنیا کو چھوڑ گئے ہیں اور میرے بہشت کے اندر آ۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ انسان جب تک فوت نہ ہو جائے گزشتہ لوگوں کی جماعت میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتا لیکن معراج کی حدیث سے جس کو بخاری نے بھی مبسوط طور پر اپنی صحیح میں لکھا ہے ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم فوت شدہ نبیوں کی جماعت میں داخل ہے لہذا حسب دلالت (۲۱۸) صریحہ اس نص کے مسیح ابن مریم کا فوت ہو جانا ضروری طور پر مانا پڑا۔ امنا بكتاب الله القرآن الكريم و كفرنا بكل ما يخالفة - ايها الناس اتبعوا ما انزل اليكم | من ربكم ولا تتبعوا من دونه اولياء - قد جاء تكم موعظة من ربكم وشفاء لما في الصدور۔ فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيلـه ـ النحل : ۴۴ الفجر : ۲۸ تا ۳۱