ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 425
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۲۵ ازالہ اوہام حصہ دوم بطور اصطلاح کے قبض روح کے لئے یہ لفظ مقرر کیا گیا ہے تا روح کی بقا پر دلالت کرے۔ افسوس کہ بعض علماء جب دیکھتے ہیں کہ توفی کے معنے حقیقت میں وفات دینے کے ہیں تو پھر یہ دوسری تاویل پیش کرتے ہیں کہ آیت فلما تو فیتنی میں جس توفی کا ذکر ہے وہ (۲۰۲) حضرت عیسی کے نزول کے بعد واقع ہوگی لیکن تعجب کہ وہ اس قدر تاویلات رکیکہ کرنے سے ذرہ بھی شرم نہیں کرتے ۔ وہ نہیں سوچتے کہ آیت فلما توفیتنی سے پہلے یہ آیت ہے وَإِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ الخ اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھانہ زمانہ استقبال کا اور پھر ایسا ہی جو جواب حضرت عیسی کی طرف سے ہے یعنی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی وہ بھی بصیغہ ماضی ہے اور اس قصہ سے پہلے جو بعض دوسرے قصے قرآن کریم میں اسی طرز سے بیان کئے گئے ہیں وہ بھی انہیں معنوں کے موید ہیں۔ مثلاً یہ قصہ وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِلى جَاعِلُ فِي الْأَرْضِ خليفة ! کیا اس کے یہ معنے کرنے چاہیے کہ خدائے تعالیٰ کسی استقبال کے زمانہ میں ملائکہ سے ایسا سوال کرے گا ماسوا اس کے قرآن شریف اس سے بھرا پڑا ہے اور حدیثیں بھی اس کی مصدق ہیں کہ موت کے بعد قبل از قیامت بھی بطور بازپرس سوالات ہوا کرتے ہیں۔ (۴) چوتھی آیت جو مسیح کی موت پر دلالت کرتی ہے وہ یہ آیت ہے کہ اِن مِنْ أَهْلِ (۲۰۳) الْكِتُبِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِم سے اور ہم اسی رسالہ میں اس کی تفسیر بیان کر چکے ہیں۔ (۵) پانچویں یہ آیت ہے ما المسيح ابن مريمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمَّهُ صِدِيقَةٌ كَانَا يَأْكُلْنِ الطَعَامَ " (الجز و نمبر 1 ) یعنی مسیح صرف ایک رسول ہے اس سے پہلے نبی فوت ہو چکے ہیں اور ماں اس کی صدیقہ ہے جب وہ دونوں زندہ تھے تو طعام کھایا کرتے تھے۔ یہ آیت بھی صریح نص حضرت مسیح کی موت پر ہے کیونکہ اس آیت میں المائدة : ۱۱۷ البقرة : ٣١ النساء : ١٦٠ المائدة : ۷۶