ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 422
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۲۲ ازالہ اوہام حصہ دوم جائز ہے مگر یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ ابن مسعود نے اپنے اس قول سے رجوع نہیں کیا اور نہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ مباہلہ ہو کر مخطیوں پر یہ عذاب نازل ہوا تھا ۔ حق بات یہ ہے کہ در ابن مسعود ایک معمولی انسان تھا نبی اور رسول تو نہیں تھا۔ اُس نے جوش میں اگر غلطی کھائی تو کیا اس کی بات کو اِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحی لے میں داخل کیا جائے۔ صحابہ کے مشاجرات اور اختلافات پر نظر ڈالو جن کی بعض اوقات سیف وسنان تک نوبت پہنچ گئی تھی ۔ حضرت معاویہ بھی تو صحابی ہی تھے جنہوں نے خطا پر جم کر ہزاروں آدمیوں کے خون کرائے ۔ اگر ابن مسعود نے خطا کی تو کون سا غضب آ گیا۔ اور بے شک اُس نے اگر جزئی اختلافات میں ۵۹۷ مباہلہ کی درخواست کی تو سخت خطا کی جبکہ صحابی سے اور باتوں میں خطا ممکن ہے تو کیا پھر مباہلہ کی درخواست میں خطا ممکن نہیں۔ ظاہر ہے کہ صحابہ میں کس قدر اختلافات واقع تھے۔ کوئی جساسہ والے دجال کو دجال معہود سمجھتا تھا اور کوئی قسم کھا کر کہتا تھا کہ ابن صیاد ہی دجال ہے۔ کوئی جسمانی معراج کا قائل تھا اور کوئی اس کو خواب بنا تا تھا اور کوئی بعض سورتوں کو جیسے معوذتین قرآن شریف کی جزو سمجھتا تھا اور کوئی اس سے باہر خیال کرتا تھا۔ اب کیا یہ سارے بیچ پر تھے اور جب ایک قسم کی کسی سے غلطی ہوئی تو دوسری قسم کی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ کیا جہالت ہے کہ صحابی کو بکلی غلطی اور خطا سے پاک سمجھا جائے اور اس کے مجرد اپنے ہی قول کو ایسا قبول کیا جائے جیسا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قبول کرنا چاہیے۔ مسلمانو! آؤ خدا سے شرماؤ اور یہ نمونہ اپنی مولویت اور تفقہ کا مت دکھلاؤ۔ مسلمان تو آگے ہی تھوڑے ہیں تم ان تھوڑوں کو اور نہ گھٹا ؤ اور کافروں کی تعداد نہ بڑھاؤ۔ اور اگر ہمارے کہنے کا کچھ اثر نہیں تو اپنی ہی تحریرات مطبوعہ کو شرم سے دیکھو اور فتنہ انگیز تقریروں سے باز آؤ۔ النجم : ۵