ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 410 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 410

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۱۰ ازالہ اوہام حصہ دوم ۵۷۲) ذریعہ سے قرآن کریم کی تفسیر اُن پر نازل ہو جائے گی جو حدیث سے مستغنی کر دے گی۔ پھر لکھتے ہیں کہ بعض کا یہ بھی خیال ہے کہ عیسی ابن مریم جب نازل ہوگا تو محض اُمتی ہوگا ایک ذرہ اس میں نبوت یا رسالت نہیں ہوگی۔ پھر لکھتے ہیں کہ حق یہ ہے کہ وہ اُمتی بھی ہوگا اور نبی بھی ۔ اور عام اُمتی لوگوں کی طرح متابعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس پر واجب کی جائے گی۔ اور جن باتوں پر اجماع امت ہو چکا ہے وہ سب باتیں اُسے ماننی پڑیں گی۔ اور چونکہ معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دیکھ چکا ہے اس لئے وہ صحابہ میں بھی داخل ہے اور ایک صحابی ہے مگر باتفاق سنت و جماعت تمام صحابہ سے ابو بکر درجہ ومرتبہ میں افضل ہے۔ پھر لکھتے ہیں کہ وہ با وجود نبی ہونے کے امتی کیوں بن گئے ۔ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ انہوں نے دعا کی تھی کہ خداوندا مجھے نبی آخر الزمان کی اُمت میں داخل کر ۔ اس لئے خدائے تعالیٰ نے انہیں باوجود نبوت کے اُمتی بھی بنا دیا۔ اور پھر صفحہ ۴۲۷ میں لکھتے ہیں کہ وہ وقت کے مجدد ہوں گے اور اس اُمت کے مجددوں میں سے شمار کئے جائیں گے۔ (۵۷۵ لیکن وہ امیر المومنین نہیں ہوں گے کیونکہ خلیفہ تو قریش میں سے ہونا چاہیے مسیح ابن مریم کیوں کر اُن کا حق لے سکتا ہے۔ اس لئے وہ خلافت کا کوئی بھی کام نہیں کرے گا نہ جدال نہ قال نہ سیاست بلکہ خلیفہ وقت کا تابع اور محکوموں کی طرح آئے گا۔ اس جگہ بڑے شبہات یہ پیش آتے ہیں کہ جس حالت میں مسیح ابن مریم اپنے نزول کے وقت کامل طور پر اُمتی ہوگا تو پھر وہ با وجود اُمتی ہونے کے کسی طرح سے رسول نہیں ہو سکتا کیونکہ رسول اور اُمتی کا مفہوم متبائن ہے اور نیز خاتم النبیین ہونا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ ہاں ایسا نبی جو مشکوۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتا ہے اور نبوت تامہ نہیں رکھتا جس کو دوسرے لفظوں میں محدث بھی کہتے ہیں وہ اس تحدید سے باہر ہے کیونکہ وہ بباعث اتباع اور فنا فی الرسول