ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 409
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۰۹ ازالہ اوہام حصہ دوم بنا کر تمہاری طرف بھیجوں گا اور جب تم اشد سرکشیوں کی وجہ سے سیاست کے لائق ٹھہر جاؤ گے تو محمد ابن عبداللہ ظہور کرے گا جو مہدی ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں وعدے کہ محمد بن عبد اللہ آئے گا یا عیسی ابن مریم آئے گا در اصل اپنی مراد و مطلب میں ہمشکل ہیں ۔ محمد بن عبد اللہ کے آنے سے مقصود یہ ہے کہ جب دنیا ایسی حالت میں ہو جائے گی جو اپنی درستی کے لئے سیاست کی محتاج ہو گی تو اُس وقت کوئی شخص مثیل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر ظاہر ہو گا اور یہ ضرور نہیں کہ در حقیقت اس کا نام محمد ابن عبد اللہ ہو ۔ بلکہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک اس کا نام محمد ابن عبد اللہ ہوگا ۔ کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا (۵۷۳) مثیل بن کر آئے گا۔ اسی طرح عیسی بن مریم کے آنے سے مقصود یہ ہے کہ جب عقل کی بد استعمالی سے دنیا کے لوگ یہودیوں کے رنگ پر ہو جائیں گے اور روحانیت اور حقیقت کو چھوڑ دیں گے اور خدا پرستی اور حب الہی دلوں سے اُٹھ جائے گی تو اُس وقت وہ لوگ اپنی روحانی اصلاح کے لئے ایک ایسے مصلح کے محتاج ہوں گے جو روح اور حقیقت اور حقیقی نیکی کی طرف ان کو توجہ دلا وے اور جنگ اور لڑائیوں سے کچھ واسطہ نہ رکھے اور یہ منصب مسیح ابن مریم کے لئے مسلم ہے کیونکہ وہ خاص ایسے کام کے لئے آیا تھا اور یہ ضرور نہیں کہ آنے والے کا نام در حقیقت عیسی بن مریم ہی ہو بلکہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ خدائے تعالی کے نزدیک قطعی طور پر اس کا نام عیسی بن مریم ہے ۔ جیسے یہودیوں کے نام خدائے تعالی نے بندر اور سؤر رکھا اور فرمادیا وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ ایساہی اُس نے اس اُمت کے مفسد طبع لوگوں کو یہودی ٹھہرا کر اس عاجز کا نام مسیح ابن مریم رکھ دیا اور اپنے الہام میں فرما دیا جعلناک المسيح ابن مریم۔ پھر مولوی صدیق حسن صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ عیسی ابن مریم جب نازل ہوگا تو قرآن کریم کے تمام احکام حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ سے اُن پر کھولے جائیں گے یعنی وحی اُن پر نازل ہوا کرے گی مگر وہ حدیث کی طرف رجوع نہیں کرے گا کیونکہ وحی کے المائدة : ٦١