ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 404
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۰۴ ازالہ اوہام حصہ دوم ۵۶۴ وقت و تاریخ نزول مسیح موعود حسب اقوال اکا بر سلف و خلف و دیگر حالات منقوله از کتاب آثار القيامة مولوی سید صدیق حسن خاں صاحب مرحوم نے جن کو مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب مجد دقرار دے چکے ہیں۔ اپنی کتاب آثار القیامۃ کے صفحہ ۳۹۵ میں بتصریح لکھا ہے کہ ظہور مہدی اور نزول عیسیٰ اور خروج دجال ایک ہی صدی میں ہوگا ۔ پھر لکھا ہے کہ امام جعفر صادق کی یہ پیشگوئی تھی کہ سن دو سو ہجری میں مہدی ظہور فرمائے گا لیکن وہ برس تو گزر گئے اور مہدی ظاہر نہ ہوا ۔ اگر اس پیشگوئی کی کسی کشف یا الہام پر بنا تھی تو تاویل کی جائے گی یا اس کشف ۵۶۵ کو غلط ماننا پڑے گا ۔ پھر بیان کیا ہے کہ اہل سنت کا یہی مذہب ہے کہ الْآيَاتُ بَعْدَ الماتين یعنی بارہ سو برس کے گزرنے کے بعد یہ علامات شروع ہو جائیں گی اور مہدی اور مسیح اور دجال کے نکلنے کا وقت آجائے گا۔ پھر نعیم بن حماد کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ ابو قبیل کا قول ہے کہ سن بارہ سو چار ہجری میں مہدی کا ظہور ہو گا لیکن یہ قول بھی صحیح نہ نکلا ۔ پھر بعد اس کے شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی کا ایک کشف لکھتے ہیں کہ ان کو تاریخ ظہور مہدی کشفی طور پر چراغ دین کے لفظ میں بحساب جمل منجانب اللہ معلوم ہوئے تھے یعنی ۱۲۶۸۔ پھر لکھتے ہیں کہ یہ سال بھی گزر گئے اور مہدی کا دنیا میں کوئی نشان نہ پایا گیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ شاہ ولی اللہ کا یہ کشف یا الہام صحیح نہیں تھا۔ میں کہتا ہوں کہ صرف مقررہ سالوں کا گزر جانا اس کشف کی غلطی پر دلالت نہیں کرتا ہاں غلط فہمی پر دلالت کرتا ہے ۔