ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 395
۳۹۵ روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ دوم کہ اگر یہودی سوسمار کے سوراخ میں داخل ہوئے ہیں تو تم بھی اُسی سوراخ میں داخل ہو گئے یعنی پورے پورے یہودی ہو جاؤ گے۔ اور چونکہ یہودیوں کی اس تباہ حالت میں خدائے تعالی نے انہیں فراموش نہیں کیا تھا بلکہ اُن کے اخلاق و اعمال درست کرنے کے لئے اور اُن کی غلطیوں کی اصلاح کرنے کی غرض سے مسیح ابن مریم کو انہیں میں سے بھیجا تھا لہذا اس اُمت کو بھی بشارت دی گئی کہ جب تمہاری حالت بھی اُن سخت دل یہودیوں کے موافق ہو جائے گی اور تم بھی ظاہر پرست اور بد چلن اور رو بدنیا ہو جاؤ گے اور تمہارے فقراء اور علماء اور دنیا داروں میں اپنی اپنی طرز پر مکاری اور بدچلنی پھیل جائے گی اور وہ شے جس کا نام تو حید اور خدا پرستی اور خدا ترسی اور خدا خواہی ہے بہت ہی کم رہ جائے گی تو مثالی طور پر تمہیں بھی ایک ابن مریم تم میں سے ہی دیا جائے گا تا تمہاری اخلاقی اور عملی اور ایمانی حالت کے درست کرنے کے لئے ایسا ہی زور لگا دے جیسا کہ مسیح ابن مریم نے لگایا تھا۔ اب صاف اور نہایت کھلا کھلا قرینہ ہے کہ چونکہ اس زمانہ کے مسلمان دراصل یہودی (۵۳۹) نہیں ہیں بلکہ انہوں نے اپنی سخت دلی اور دنیا پرستی کی وجہ سے یہودیوں سے ایک مشابہت پیدا کر لی ہے اس لئے جو مسیح ابن مریم اُن کے لئے نازل ہوا وہ بھی دراصل مسیح ابن مریم نہیں ہے بلکہ اپنے اس منصبی کام میں جو اس کے سپر د ہوا ہے مسیح سے مماثلت رکھتا ہے۔ یقینا سمجھو کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا اور خدا تعالیٰ نے اس کو فوت ہونے کے بعد اسی قسم کی زندگی بخشی جو وہ ہمیشہ نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کو بخشتا آیا ہے۔ سو وہ خدائے تعالیٰ کی طرف ایک پاک اور لطیف زندگی کے ساتھ جو جسم خا کی اور اُس کے لوازم کثیفہ اور مکدرہ سے منزہ ہے اُٹھایا گیا اور اسی قسم کے زندوں کی جماعت میں جا ملا۔ اگر وہ جسم خاکی کے ساتھ اُٹھایا جاتا تو اس خا کی جسم کے لوازم بھی اُس کے ساتھ رہتے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ ہم نے کوئی ایسا جسد خا کی نہیں بنایا کہ وہ زندہ تو ہومگر روٹی نہ کھاتا ہو لیکن آپ لوگ مانتے ہیں کہ اب مسیح ابن مریم کا جسم