ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 392
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۹۲ ازالہ اوہام حصہ دوم ثابت نہ ہو سکا کہ جسم آسمان پر چلا گیا۔ کیا جو لوگ رات کو یا دن کو سوتے ہیں تو اُن کا جسم آسمان پر چلا جایا کرتا ہے۔ سونے کی حالت میں جیسا کہ ابھی میں بیان کر چکا ہوں صرف تھوڑی (۵۲۳) مدت تک روح قبض کر لی جاتی ہے جسم کے اٹھائے جانے سے اس کو علاقہ ہی کیا ہے۔ ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ نصوص ظاہرہ متواترہ صریحہ قرآن کریم نے توفی کے لفظ کو صرف روح تک محدود رکھا ہے یعنی روح کو اپنے قبضہ میں کر لینا اور جسم کو بیکار چھوڑ دینا۔ اور جبکہ یہ حال ہے تو پھر توفی کے لفظ سے یہ نکالنا کہ گویا خدائے تعالیٰ نے نہ صرف مسیح ابن مریم کی روح کو اپنی طرف اٹھایا بلکہ اس کے جسم عنصری کو بھی ساتھ ہی اٹھالیا۔ یہ کیسا سخت جہالت سے بھرا ہوا خیال ہے جو صریح اور بدیہی طور پر نصوص بینہ قرآن کریم کے مخالف ہے ۔ قرآن کریم نے نہ ایک بار نہ دو بار بلکہ پچیس بار فرمادیا کہ توفی کے لفظ سے صرف قبض روح مراد ہے جسم سے کچھ غرض نہیں۔ پھر اگر اب بھی کوئی نہ مانے تو اس کو قرآن کریم سے کیا غرض ۔ اس کو تو صاف یہ کہنا چاہیے کہ میں اپنے چند موہومی بزرگوں کی لکیر کو کسی حالت میں چھوڑ نا نہیں چاہتا۔ پھر قرآن کریم کے بعد حدیثوں کا مرتبہ ہے سو تقریباً تمام حدیثیں تصریح کے ساتھ قرآن کریم کے بیان کے موافق ہیں اور ایک بھی ایسی حدیث نہیں جس میں یہ لکھا ہو کہ (۵۴۳) وہی مسیح ابن مریم اسرائیلی نبی جس کو قرآن شریف مار چکا ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی پھر دنیا میں آئے گا۔ ہاں بار بار لکھا ہے کہ ان اسرائیلی نبیوں کے ہم نام آئیں گے۔ سچ ہے کہ حدیثوں میں درج ہے کہ ابن مریم آئے گا لیکن انہیں حدیثوں نے حلیہ میں اختلاف ڈال کر اور آنے والے ابن مریم کو اُمتی ٹھہرا کر صاف بتلا دیا ہے کہ یہ ابن مریم اور ہے۔ اور پھر اگر اس قسم کی حدیثوں کی تشریح کے لئے جو متنازعہ فیہ ہیں دوسری حدیثوں سے مدد لینا چاہیں تو پھر کوئی ایسی حدیث نہیں ملتی جس سے یہ ثابت ہو کہ گذشتہ نبیوں میں سے کبھی کوئی نبی بھی دنیا میں آئے گا۔ ہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ اُن کے مثیل آئیں گے اور