ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 393
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۹۳ ازالہ اوہام حصہ دوم انہیں کے اسم سے موسوم ہوں گے۔ اور یہ بات ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ خاتم النبیین کے بعد مسیح ابن مریم رسول کا آنا فساد عظیم کا موجب ہے اس سے یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ وحی نبوت کا سلسلہ پھر جاری ہو جائے گا اور یا یہ قبول کرنا پڑے گا کہ خدائے تعالیٰ مسیح ابن مریم کو لوازم نبوت سے الگ کر کے اور محض ایک امتی بنا کر بھیجے گا اور یہ دونوں صورتیں ممتنع ہیں۔ اس جگہ یہ بیان کرنا بھی بے جانہ ہوگا کہ جس حالت میں تقریباً کل حدیثیں قرآن شریف (۵۴۵ کے مطابق اور ہمارے بیان کی مؤید ہیں ۔ پھر اگر بطور شاذ و نادر کوئی ایسی حدیث بھی ہو جو اس مجموعہ یقینیہ کے مخالف ہو تو ہم ایسی حدیث کو یا تو نصوص میں سے خارج کریں گے اور یا اس کی تاویل کرنی پڑے گی کیونکہ یہ تو ممکن نہیں کہ ایک ضعیف اور شاذ حدیث سے وہ مستحکم عمارت گرا دی جائے جس کو نصوص بینہ فرقانیہ و حدیثیہ نے طیار کیا ہے بلکہ ایسی حدیث اُن کے معارض ہو کر خود ہی گرے گی یا قابل تاویل ٹھہرے گی ۔ ہر ایک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ ایک خبر واحد غایت کار مفید ظن ہے۔ سو وہ یقینی اور قطعی ثبوت کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ بہت سی حدیثیں مسلم اور بخاری کی ہیں جو امام اعظم صاحب نے جو رئیس الائمہ ہیں قبول نہیں کیں ۔ بعض حدیثوں کو شافعی نے نہیں لیا۔ بعض حدیثوں کو جو نہایت صحیح سمجھی جاتی ہیں امام مالک نے چھوڑ دیا۔ بعض محدثین نے لکھا ہے کہ مسیح موعود جب دنیا میں آئے گا تو اکثر استدلال اس کا قرآن شریف سے ہوگا اور بعض ایسی حدیثوں کو چھوڑ دے گا جن پر علماء وقت کا پختہ یقین ہوگا اور مجدد الف ثانی صاحب اپنے مکتوبات کی مجلد ثانی مکتوب پنجاه و پنجم میں لکھتے ہیں کہ مسیح موعود جب دنیا میں آئے گا تو علماء وقت کے بمقابل اس کے ﴿۵۴۶ آمادہ مخالفت کے ہو جائیں گے کیونکہ جو باتیں بذریعہ اپنے استنباط اور اجتہاد کے وہ بیان کرے گا وہ اکثر دقیق اور غامض ہوں گی اور بوجہ دقت اور غموض ماخذ کے ان سب مولویوں کی نگاہ میں کتاب اور سنت کے برخلاف نظر آئیں گی حالانکہ در حقیقت برخلاف