ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 388

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۸۸ ازالہ اوہام حصہ دوم بھائیو! کیوں کھسیانے بن کر بیہودہ باتیں کرتے ہو اور ناحق اپنے ذمہ گناہ لیتے ہو۔ خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں اُس مسیح ابن مریم کو مار چکا جو اسرائیلی نبی تھا جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ اب یہ لفظ اپنے گھر سے حدیثوں میں زیادہ مت کرو کہ وہی مسیح فوت شدہ پھر آئے گا۔ اے خدا کے بند و کچھ تو خدا سے ڈرو۔ کیا خدائے تعالیٰ آپ کے نزدیک اس بات پر قادر ۵۳۶) نہیں کہ وہ اپنے ایک بندہ میں ایک ایسی روح ڈال دیوے جس سے وہ ابن مریم کے روپ میں ہی ہو جائے کیا اس کی مثالیں خدائے تعالیٰ کی کتابوں میں نہیں کہ اس نے ایک نبی کا نام دوسرے پر رکھ دیا کیا حدیثوں میں یہ مذکور نہیں کہ مثیل ابن مریم و غیرہ اس اُمت میں پیدا ہوں گے تو پھر جب قرآن مسیح ابن مریم کو مارتا ہے اور حدیثیں مثیل ابن مریم کے آنے کا وعدہ دیتی ہیں تو اس صورت میں کیا اشکال باقی رہا۔ کیا اس میں کچھ جھوٹ ہے کہ در جو ابن مریم کی سیرت رکھتا ہے وہ ابن مریم ہی ہے۔ آں ابن مریم خدائی نبود ز موت و ز فوتش رہائی نبود رہا کرد خود را ز شرک و دوئی تو ہم کن چنیں ابن مریم توئی اے مولوی صاحبان فضولی کو چھوڑو اور مجھے کوئی ایک ہی حدیث ایسی دکھلاؤ کہ جو صحیح ہو اور جو مسیح کا خاکی جسم کے ساتھ زندہ اٹھایا جانا اور اب تک آسمان پر زندہ ہونا ثابت کرتی ہو اور تواتر کی حد تک پہنچی ہو اور اس مقدار ثبوت تک پہنچ گئی ہو جو عند العقل مفید یقین قطعی ہو جاوے اور صرف شک کی حد تک محدود نہ رہے۔ آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم (۵۳۷) کی تمام آیات بینہ کیسی مفید یقین ہیں۔ اب جبکہ ہما را دعوی مبنی بر نصوص بینہ قرآنیہ ہے اور اس کی تائید میں صحیح حدیثیں بھی ہمارے پاس ہیں اور ایسا ہی اقوال سلف و خلف بھی ہماری تائید میں کچھ تھوڑے نہیں اور الہامی شہادت ان سب کے علاوہ ہے۔ سواب تم انصاف کے ترازو لے کر بیٹھ جاؤ اور ایک پلہ میں اپنے خیالات رکھو اور دوسرے پلہ میں ہماری یہ سب وجوہات ۔ اور آپ ہی انصاف کر لو ۔ خوب سوچ لو کہ اگر ہمارے پاس صرف نصوص قرآن کریم ہی ہوتیں تو فقط وہی کافی تھیں۔ اب جس حالت میں بعض حدیثیں بھی ان