ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 386

روحانی خزائن جلد۳ ۳۸۶ ازالہ اوہام حصہ دوم کے سامنے حدیثوں کا ذکر کرنا ایسا ہے کہ جیسا آفتاب کے مقابل پر کرم شب تاب کو پیش ۵۳۲ کیا جائے مگر پھر بھی ہمارے مخالفین کی سخت بے نصیبی ہے کہ اس قسم کی حدیثیں بھی تو نہیں ملتیں جن سے یہ ثابت ہو کہ مسیح ابن مریم سچ مچ اسی جسم خاکی عصری کے ساتھ آسمان کی طرف زندہ اٹھایا گیا۔ ہاں اس قسم کی حدیثیں بہت ہیں کہ ابن مریم آئے گا مگر یہ تو کہیں نہیں لکھا کہ وہی ابن مریم اسرائیلی نبی جس پر انجیل نازل ہوئی تھی جس کو قرآن شریف مار چکا ہے وہی زندہ ہو کر پھر آجائے گا۔ ہاں یہ بھی سچ ہے کہ آنے والے مسیح کو نبی کر کے بھی بیان کیا گیا ہے مگر اس کو امتی کر کے بھی تو بیان کیا گیا ہے بلکہ خبر دی گئی کہ اے اُمتی لوگو وہ تم میں سے ہی ہوگا اور تمہارا امام ہوگا اور نہ صرف قولی طور پر اس کا امتی ہونا ظاہر کیا بلکہ فعلی طور پر بھی دکھلا دیا کہ وہ امتی لوگوں کے موافق صرف قال اللہ وقال الرسول کا پیرو ہوگا اور حل مغلقات و معضلات دین نبوت سے نہیں بلکہ اجتہاد سے کرے گا اور نماز دوسروں کے پیچھے پڑھے گا۔ اب ان تمام اشارات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ واقعی اور حقیقی طور پر نبوت تامہ کی صفت سے متصف نہیں ہوگا۔ ہاں نبوت ناقصہ اس میں پائی جائے گی جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کہلاتی ہے ۵۳۳) اور نبوت تامہ کی شانوں میں سے ایک شان اپنے اندر رکھتی ہے۔ سو یہ بات کہ اس کو امتی بھی کہا اور نبی بھی۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دونوں شانیں اُمتیت اور نبوت کی اُس میں پائی جائیں گی جیسا کہ محدث میں ان دونوں شانوں کا پایا جانا ضروری ہے لیکن صاحب نبوت تامہ تو صرف ایک شان نبوت ہی رکھتا ہے۔ غرض محدثیت دونوں رنگوں سے رنگین ہوتی ہے اسی لئے خدائے تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں بھی اس عاجز کا نام اُمتی بھی رکھا اور نبی بھی۔ اور یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جب اسرائیلی نبی مسیح ابن مریم فوت ہو چکا اور پھر اس کے زندہ ہو جانے کا کہیں قرآن شریف میں ذکر نہیں تو بجز اس کے اور کیا سمجھ میں آ سکتا ہے کہ یہ آنے والا ابن مریم اور ہی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ کیا خدائے تعالی قادر نہیں کہ مسیح ابن مریم کو زندہ کر کے