ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 380
روحانی خزائن جلد۳ ۳۸۰ ازالہ اوہام حصہ دوم ۵۲۱) ایک شخص عبد الرحمن نام کلکتہ کے رہنے والے کی گواہی تاریخ وفات کے بعد میں درج تھی تو کیا ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہی عبد الرحمن جو فوت ہو چکا تھا زندہ ہو کر اپنی گواہی لکھ گیا ہے۔ پس چونکہ اس عبد الرحمن کے زندہ ہو جانے کا ہمارے پاس کوئی بھی ثبوت نہیں تو کیا صرف خدائے تعالیٰ کی قدرت کے حوالہ سے ہم کسی ایسی صورت کے مقدمہ میں جو عدالت میں پیش ہے بغیر اس بات کے ثبوت دینے کے کہ در حقیقت وہی عبد الرحمن زندہ ہو کر اپنی گواہی لکھ گیا ہے ڈگری کے پانے کے مستحق ٹھہر سکتے ہیں ہرگز نہیں۔ اور یہ دغدغہ کہ کیوں مسیح ابن مریم کے لفظ کو اختیار کیا گیا ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اُسی طرز کا محاورہ ہے جیسے یحی بن زکریا کے لئے ایلیا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ خدائے تعالیٰ کو منظور تھا کہ آخری زمانہ میں کوئی شخص مسیح کی قوت اور طبع میں پیدا ہو اور وہ اس گروہ کذاب کا مقابلہ کرے جن کی طبیعت اس طبیعت کے مغائر ومخالف واقع ہے۔ سو گر وہ کذاب کا نام اُس نے مسیح دجال رکھا اور حامی حق کا نام مسیح ابن مریم قرار دیا اور اس کو بھی ایک گروہ بنایا جو صحیح ابن مریم کے نام سے سچائی کی فتح کے لئے دنیا کے اخیر تک کوشش کرتا رہے گا۔ ۵۲۲ سوضرور تھا کہ یہ آنے والا مسیح ابن مریم کے نام سے ہی آتا کیونکہ جس تا ثیر امانت احیاء کو مسیح دجال نے پھیلانا چاہا ہے اس تاثیر کے مخالف مسیح ابن مریم کو تا شیر دی گئی ہے جو روح القدس کے ذریعہ سے اس کو ملی ہے سو جو شخص مسیح کے قدم پر وہ تاثیر لے کر آیا اور زہر ناک ہوا کے مقابل پر جو ہلاک کرتی ہے یا ہلاکت تک پہنچاتی ہے ایک تریاقی نفس اس کو عطا ہوا۔ اس وجہ سے وہ مسیح ابن مریم کہلایا کیونکہ وہ روحانی طور پر مسیح کے رنگ میں ہو کر آیا مسیح کیوں کر آ سکتا۔ وہ رسول تھا اور خاتم انبیین کی دیوار روئیں اس کو آنے سے روکتی ہے۔ سو اس کا ہم رنگ آیا ۔ وہ رسول نہیں مگر رسولوں کے مشابہ ہے اور امثل ہے ۔ کیا عام لفظوں میں کسی حدیث میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بعض گزشتہ رسولوں میں سے پھر اس امت میں آئیں گے جیسا کہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ اُن کے مثیل آئیں گے اور امثل آئیں گے