ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 377
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۷۷ ازالہ اوہام حصہ دوم سے منور کئے جائیں گے اور اُن کو اسلام سے حصہ ملے گا۔ اور میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں ۔ بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق اُن کا جسم ہوگا۔ (۵۱۲ کے سو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگر چہ میں نہیں مگر میری تحریر میں اُن لوگوں میں پھیلیں گی ۔ اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کے شکار ہو جائیں گے۔ در حقیقت آج تک مغربی ملکوں کی مناسبت دینی سچائیوں کے ساتھ بہت کم رہی ہے گویا خدا تعالیٰ نے دین کی عقل تمام ایشیا کو دے دی اور دنیا کی عقل تمام یورپ اور امریکہ کو ۔ نبیوں کا سلسلہ بھی اوّل سے آخر تک ایشیا کے ہی حصہ میں رہا اور ولایت کے کمالات بھی انہیں لوگوں کو ملے ۔ اب خدائے تعالی ان لوگوں پر نظر رحمت ڈالنا چاہتا ہے۔ اور یادر ہے کہ مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ طلوع الشمس من مغربھا کے کوئی اور معنے بھی ہوں میں نے صرف اُس کشف کے ذریعہ سے جو خدائے تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے مذکورہ بالا معنے کو بیان کیا ہے۔ اگر کوئی مولوی ملا ان الہی مکاشفات کو الحاد کی طرف منسوب کرے تو وہ جانے اور اس کا کام۔وما قلت من عقد نفسى بل اتبعت ما كشف على والله بصير بحالي وسميع لمقالي فاتقوا الله ايها العلماء لیکن اگر کوئی اس جگہ یہ سوال کرے کہ جب مغرب کی طرف سے آفتاب طلوع کرے گا (۵۱۷ تو جیسا کہ لکھا ہے تو بہ کا دروازہ بند ہو جائے گا تو پھر اگر یہی معنے سچ ہیں تو ایسے اسلام سے کیا فائدہ جو مقبول ہی نہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تو بہ کا دروازہ بند ہونے سے یہ مطلب تو نہیں کہ تو بہ منظور ہی نہیں ہوگی بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب ممالک مغربی کے لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہو جائیں گے تب ایک انقلاب عظیم ادیان میں پیدا ہوگا۔ اور جب یہ آفتاب