ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 376
روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ دوم اس دخان مبین کا وعدہ تھا اس طرح پر کہ قبل از ظهور مسیح نہایت درجہ کی شدت سے اس کا ظہور ۵۱۴) ہوگا۔ اب سمجھنا چاہیے کہ یہ آخری زمانہ کا قحط جسمانی اور روحانی دونوں طور سے وقوع میں آیا۔ جسمانی طور سے اس طرح کہ اگر اب سے پچاس برس گذشتہ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ جیسے اب غلہ اور ہر یک چیز کا نرخ عام طور پر ہمیشہ کم رہتا ہے اس کی نظیر پہلے زمانوں میں کہیں نہیں پائی جاتی ۔ کبھی خواب خیال کی طرح چند روز گرانی غلہ ہوتی تھی اور پھر وہ دن گزر جاتے تھے لیکن اب تو یہ گرانی لازم غیر منفک کی طرح ہے اور قحط کی شدت اندر ہی اندر ایک عالم کو تباہ کر رہی ہے۔ اور روحانی طور پر صداقت اور امانت اور دیانت کا قحط ہو گیا ہے اور مکر اور فریب اور علوم وفنون مظلمہ دُخان کی طرح دنیا میں پھیل گئی ہیں اور روز بروز ترقی پر ہیں ۔ اس زمانہ کے مفاسد کی صورت پہلے زمانوں کے مفاسد سے بالکل مختلف ہے۔ پہلے زمانوں میں اکثر نادانی اور اُمیت رہزن تھی اس زمانہ میں تحصیل علوم رہزن ہو رہی ہے ۔ ہمارے زمانہ کی نئی روشنی جس کو دوسرے لفظوں میں دخان سے موسوم کرنا چاہیے عجیب طور پر ایمان اور دیانت اور اندرونی سادگی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ سوفسطائی تقریروں کے غبار نے صداقت (۵۱۵ کے آفتاب کو چھپا دیا ہے اور فلسفی مغالطات نے سادہ لوحوں کو طرح طرح کے شبہات میں ڈال دیا ہے۔ خیالات باطلہ کی تعظیم کی جاتی ہے اور حقیقی صداقتیں اکثر لوگوں کی نظر میں کچھ حقیر سی معلوم ہوتی ہیں۔ سو خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ عقل کے رہردوں کو عقل سے درست کرے اور فلسفہ کے سرگشتوں کو آسمانی فلسفہ کے زور سے راہ پر لا وے سو یہ کامل درجہ کا دُخان مبین ہے جو اس زمانہ میں ظاہر ہوا ہے۔ ایسا ہی طلوع شمس کا جو مغرب کی طرف سے ہو گا۔ ہم اس پر بہر حال ایمان لاتے ہیں لیکن اس عاجز پر جو ایک رویا میں ظاہر کیا گیا وہ یہ ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمت کفر وضلالت میں ہیں آفتاب صداقت