ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 367
روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ دوم اور کافرستان کے وحشی لوگوں اور افریقہ کے جنگلیوئی آدمیوں کے پاس جاتے ہیں اور اسی غرض سے ہمیشہ خشکی اور تری کا سفر کرتے رہتے ہیں تا کسی شخص کو اپنے دام میں لاویں۔ حضرت آدم سے آج تک جو متفرق طور پر گمراہ کرنے کے لئے لوگوں نے فریب کئے ہیں ان مشنوں میں اُن تمام کا مجموعہ پایا جاتا ہے۔ کوئی شخص اگر ایک سال تک سوچتا ر ہے اور گمراہ کرنے کے جدید جدید فریب نکالے تو آخر جب غور کر کے دیکھے گا تو وہ سب فریب ان مشنوں میں پائے گا۔ بہت جگہ ان لوگوں نے ڈاکٹری عہدے بھی حاصل کئے ہیں تا اگر اور نہیں تو مصیبت زدہ بیمار ہی قابو آویں۔ بہت سا غلہ اس غرض سے خریدا جاتا ہے کہ تا اگر قحط پڑے تو قحط زدہ لوگوں کو وہ غلہ مفت دیا جاوے اور کچھ وعظ بھی سنا دیا جائے۔ اکثر جگہ دیکھا گیا ہے کہ اتوار کے دن پادری صاحبان کا خیرات خانہ کھلتا ہے اور بہت سے مسکین اکٹھے ہو جاتے ہیں اور مناسب وقت کچھ کچھ وعظ کے طور پر اُن کو سنا کر پھر پیسے ٹکے اُن کو دئے (۴۹۸ جاتے ہیں۔ بہت سی ایسی مسوں نے جو پادری کا منصب رکھتی ہیں دونوں وقت لوگوں کے گھروں میں پھرنا اختیار کر رکھا ہے اور اشرافوں کی لڑکیوں کو سینا پرونا اور کئی قسم کا سوئی کا کام سکھلاتی ہیں اور رہزنی کے لئے آلہ نقب بھی بغل میں ہوتا ہے موقعہ پر وہ حربہ بھی چلایا جاتا ہے۔ چنانچہ کئی جوان لڑکیاں اچھے اچھے خاندانوں کی سید اور شیخ اور مغل اور نوابوں اور شہزادوں کی اولاد کہلا کر پھر مس صاحبوں کی کوششوں سے عیسائی جماعت میں جا ملی ہیں۔ اور جن مستورہ اور شریفہ عورتوں نے کبھی مدت العمر غیر آدمی کی شکل بھی نہ دیکھی تھی اب وہ عیسائی ہو کر نا محرموں کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر پھرتی ہیں۔ پاک محبت کے خیال سے نامحرم اگر بوسہ بھی لے لیں تو کچھ پر انہیں سمجھا جاتا ۔ اور یا تو انہوں نے کبھی شراب کا نام بھی نہ سنا تھا اور یا اس خبیث عرق کی دن رات خوب مشق ہورہی ہے اور برانڈی ، شیری ، وہسکی ، رم ، پوٹ، وائن وغیرہ شرابوں کے نام نوک زبان ہو رہے ہیں ۔ اسی طرح ہزار ہالا وارث بچے مسلمانوں کے ان لوگوں کے قبضہ میں آکر اور اُن کے تلبیسات کی تعلیم پا کر اب کے دشمن (۲۹۹ ہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” جنگلی “ ہونا چاہیے۔(ناشر )