ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 356

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۵۶ ازالہ اوہام حصہ دوم اُٹھایا گیا ہے اسی طرح جس طرح تم نے اُسے آسمان کو جاتے دیکھا پھر آوے گا یہ ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف ہے جو تم نے عالم کشف میں جو عالم مثال ہے مسیح کو آسمان کی طرف جاتے دیکھا اسی طرح مثالی طور پر اور مثالی وجود کے ساتھ مسیح پھر آوے گا جیسا کہ ایلیا آیا اور یاد رہے کہ یہ تاویلات اس حالت میں ہیں کہ ہم ان عبارتوں کو صحیح اور غیر محرف قبول کر لیں لیکن اس قبول کرنے میں بڑی دقتیں ہیں۔ جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ مسیح کا آسمان کی طرف اُٹھائے جانا انجیل کی کسی الہامی عبارت سے ہرگز ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا اور جنہوں نے اپنی اٹکل سے بغیر رویت کے کچھ لکھا۔ اُن کے بیانات میں علاوہ اس خرابی کے کہ اُن کا بیان چشم دید نہیں اس قدر تعارض ہے کہ ایک ذرہ ہم اُن میں سے شہادت کے طور پر نہیں لے سکتے ۔ ضرور تھا کہ مسیح دجال گر جا میں سے ہی نکلے ہم بیان کر آئے ہیں کہ مسیح دجال کی تعیین و تشخیص میں اسلام کے قرن اول کے بزرگوں میں اختلاف رہا ہے۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم قطعی اور یقینی طور پر ابن صیاد کو مسیح دجال سمجھ بیٹھے تھے ۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو قسم کھا کر کہا کہ الدجال یہی ہے یعنی مسیح دجال کیونکہ الدجال بجز مسیح دجال کے اور کسی کو نہیں کہا جاتا ۔ ایسا ہی ابن عمر نے بھی صریح لفظوں میں کہا کہ مسیح الدجال یہی ہے ۔ اور ہم پہلے اس سے تحریر کر چکے ہیں کہ بعض احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن صیاد مسلمان ہونے کے بعد مدینہ میں فوت ہو گیا اور مسلمانوں نے اس کا جنازہ پڑھا۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ وہ گم ہو گیا مگر قول اول ارج ہے کیونکہ فوت کی خبر میں زیادت علم ہے جو موجب قطع و یقین ہے۔ بہر حال جبکہ مسلم کی حدیث سے ابن صیاد کا اسلام ثابت ہے اور ارتداد