ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 355
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۵۵ ازالہ اوہام حصہ دوم میں کئی بار لکھ چکا ہوں اور پھر بھی لکھتا ہوں کہ اہل کشف کے نزدیک یہ بات ثابت شدہ ہے کہ مقدس اور راستباز لوگ مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جایا کرتے ہیں اور ایک قسم کا انہیں جسم نورانی مل جاتا ہے اور اس جسم کے ساتھ وہ آسمان کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں اور بعض احادیث میں آیا ہے کہ بعد موت کے اکثر مدت مقدس لوگوں کی زمین پر رہنے کی چالیس دن ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کوئی نبی فوت ہونے کے بعد چالیس دن سے زیادہ زمین پر نہیں ٹھہرتا بلکہ اس عرصہ کے اندراندر آسمان کی طرف اُٹھایا جاتا ہے۔ چنانچہ خود اپنی نسبت آنجناب فرماتے ہیں کہ مجھے ہرگز امید نہیں کہ خدائے تعالیٰ چالیس دن (۴۷۶ سے زیادہ مجھ کو قبر میں رکھے۔ سو سمجھنا چاہیے کہ آسمان کی طرف مع الجسد اُٹھایا جانا حضرت مسیح کا جس کی نسبت کیا عیسائی اور کیا مسلمان شور مچا رہے ہیں دراصل یہی معنے رکھتا ہے اور اس بارے میں مسیح کی کچھ بھی خصوصیت نہیں۔ ہر ایک مقدس اور کامل راستباز کا رفع اسی طرح ہوتا ہے۔ اور یہ امر اہل کشف کے نزدیک مسلمات اور مشاہدات میں سے ہے قرآن کریم میں مسیح کے رفع کا ذکر اس کی راستبازی کی تصدیق کے لئے ہے۔ اور مسیح کے شاگردوں کو جو کشفی طور پر اس کا اُٹھایا جانا دکھایا گیا یہ اُن کی تقویت ایمان کے لئے تھا کیونکہ اس وقت کے مولویوں اور فقیہوں کی طرح اس وقت کے فقیہوں اور فریسیوں نے بھی حضرت مسیح پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا اور قریب تھا کہ وہ لوگ اپنی مکاریوں سے بہت سے شبہات دلوں میں ڈال دیتے لہذا خداوند کریم نے مسیح کے شاگردوں کی کشفی آنکھ کھول دی اور انہوں نے دیکھا کہ وہ خاص مقربوں کی طرح آسمان کی طرف اُٹھایا گیا ۔ اگر یہ کشف نہ ہوتا تو نامحرم اور بد عقیدہ بیگا نہ لوگ بھی اس حالت کو دیکھتے کیونکہ وہ کوئی ایسی جگہ نہیں تھی کہ جہاں دوسروں کی آمد ورفت حرام تھی ۔ پس بیگانے لوگ جو آئیند روند تھے صرف اسی وجہ سے ۴۷۷) نہیں دیکھ سکے کہ وہ ایک کشفی امر تھا اور پھر اخیر میں گیارہ آیت میں جو لکھا ہے جو فرشتوں نے جو وہاں کھڑے تھے یہ کہا کہ اے علیلی مردو! یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر