ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 349 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 349

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۴۹ ازالہ اوہام حصہ دوم إِنِّي مُتَوَفِّیک کے کیا معنے نکلتے ہیں تو پہلے بسم اللہ کر کے ابن عباس سے یہی حدیث نکلتی ہے کہ حضرت مسیح فوت ہوچکے ہیں پھر قرآن اور حدیث سے قطع امید کر کے عقل کی طرف دوڑتے ہیں تو عقل ایک روشن دلیل کا طمانچہ مار کر دوسری طرف منہ پھیر دیتی ہے اور پھر کانشنس اور نور قلب کی طرف آتے ہیں تو وہ اپنے نزدیک آنے سے دھکے دیتا ہے۔ پس اس سے زیادہ محرومی کیا ہوگی کہ کوئی ان لوگوں کو قبول نہیں کرتا اور کسی جگہ اپنے مورچے باندھ نہیں سکتے ۔ بعض چالا کی سے قرآن شریف کے کھلے کھلے ثبوت پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ توفی کا لفظ اخت کی کتابوں میں کئی معنوں پر آیا ہے حالانکہ اپنے دلوں میں خوب جانتے ہیں کہ جن لفظوں کو قرآن شریف اصطلاحی طور پر بعض معانی کے لئے خاص کر لیتا ہے اور اپنے متواتر بیان سے بخوبی سمجھا دیتا ہے کہ فلاں معنے کے لئے اُس نے فلاں لفظ خاص کر رکھا ہے (۴۶۶) اس معنی سے اس لفظ کو صرف اس خیال سے پھیر نا کہ کسی لغت کی کتاب میں اس کے اور معنے بھی آئے ہیں صریح الحاد ہے۔ مثلاً کتب لغت میں اندھیری رات کا نام بھی کافر ہے مگر تمام قرآن شریف میں کا فر کا لفظ صرف کا فردین یا کا فرنعمت پر بولا گیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص کفر کا لفظ الفاظ مروجہ فرقان سے پھیر کر اندھیری رات اس سے مراد لے اور یہ ثبوت دے کہ لغت کی کتابوں میں یہ معنے بھی لکھے ہیں تو سچ کہو کہ اُس کا یہ ملحدانہ طریق ہے یا نہیں ؟ اسی طرح کتب لغت میں صوم کا لفظ صرف روزہ میں محدود نہیں بلکہ عیسائیوں کے گر جا کا نام بھی صوم ہے اور شتر مرغ کے سرگین کو بھی صوم کہتے ہیں لیکن قرآن شریف کی اصطلاح میں صوم صرف روزہ کا نام ہے اور اسی طرح صلوٰۃ کے لفظ کے معنے بھی لغت میں کئی ہیں مگر قرآن شریف کی اصطلاح میں صرف نماز اور درود اور دعا کا نام ہے۔ یہ بات سمجھنے والے جانتے ہیں کہ ہر یک فن ایک اصطلاح کا محتاج ہوتا ہے اور اہل اس فن کے حاجات کے موافق بعض الفاظ کو متعدد معنوں سے