ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 346

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۴۶ ازالہ اوہام حصہ دوم بجز اوہام کے اور کچھ بھی نہیں اور وہ ہر طرف سے شکست کھا کر بار بار یہ و ہم پیش کرتے ہیں کہ ابن مریم کا اتر نا کتابوں میں لکھا ہوا ہے اور ہماری اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ کیا خدائے تعالیٰ با اعتبار بعض صفات خاصہ کے کسی دوسرے کا نام ابن مریم نہیں رکھ سکتا۔ تعجب کہ آپ تو ہمیشہ اپنی اولاد کے پیغمبروں کے نام رکھتے ہیں بلکہ ایک ایک نام میں دو دو پیغمبروں کے نام ہوتے ہیں جیسے محمد یعقوب محمد ابراہیم ، محمد مسیح، محمد عیسی محمد اسمعیل احمد ہارون ۔ لیکن اگر خدائے تعالی کسی اپنے بندہ کو ان ناموں میں سے کسی نام کے ساتھ پکارے یا ان نبیوں کے ناموں اور گنیتوں میں سے کوئی نام یا کنیت کسی اپنے مامور کو عطا کرے تو یہ کفر سمجھتے ہیں گویا جو کام انہیں کرنا جائز ہے وہ خدائے تعالیٰ کو کرنا جائز نہیں نہیں دیکھتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۴۶۱) فرما گئے ہیں کہ اس اُمت میں مثیل انبیاء بنی اسرائیل آئیں گے تو کیا ضرور ہی نہ تھا کہ وہ مثیل دنیا میں آتے۔ پھر اگر خدائے تعالیٰ نے مثیل مسیح ہونے کی وجہ سے کسی کا نام ابن مریم رکھ دیا تو کیا برا کیا۔ اور قرینہ ظاہر ہے کہ فوت شدہ تو دوبارہ دنیا میں نہیں آسکتا اور نہ خدائے تعالیٰ انبیاء پر دو موتیں وارد کرتا ہے اور اس کا حکم بھی ہے کہ جو شخص اس دنیا سے گیا وہ گیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ لا یعنی جس پر موت وارد کی گئی وہ پھر کبھی دنیا میں آ نہیں سکتا۔ اور پھر فرمایا لَا يَذُوقُوْنَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الأولى ۔ یعنی بہشتیوں پر دوسری موت نہیں آئے گی ۔ ایک موت جو آ چکی سو آ چکی ۔ اب جو لوگ کہتے ہیں کہ مسیح جو مر گیا کیا خدائے تعالیٰ قادر نہیں کہ اس کو پھر زندہ کر کے بھیجے گویا اُن کے نزدیک مسیح بہشتی نہیں جو اس کے لئے دو موتیں تجویز کرتے ہیں ۔ حضرات اپنی بات کی ضد کے لئے مسیح کو بار بار کیوں مارنا چاہتے ہو اس کا کون سا گناہ ہے جو اس پر دو موتیں آویں اور پھر ان دو موتوں کا حدیث اور قرآن کی رو سے ثبوت کیا ہے۔ کچھ پیش تو کرو۔ اور اگر اب بھی ہمارے مخالف الرائے مولوی صاحبان مانے میں نہیں آتے تو ہم انہیں مخفی الزمر :۴۳ ۲ الدخان : ۵۷