ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 339
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۳۹ ازالہ اوہام حصہ دوم دیکھتا کہ خداوند کریم ورحیم نے محض فضل و کرم سے ان تمام امور سے اس عاجز کو حصہ وافرہ دیا ہے اور اس ناکارہ کو خالی ہاتھ نہیں بھیجا اور نہ بغیر نشانوں کے مامور کیا بلکہ یہ تمام نشان (۴۴۹ دئے ہیں جو ظاہر ہورہے ہیں اور ہوں گے اور خدائے تعالیٰ جب تک کھلے طور پر حجت قائم نہ کر لے تب تک ان نشانوں کو ظاہر کرتا جائے گا۔ اور یہ جو کہا کہ تمہارے وجود سے ہمیں کیا فائدہ؟ تو اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص مامور ہو کر آسمان سے آتا ہے اس کے وجود سے علی حسب مراتب سب کو بلکہ تمام دنیا کو فائدہ ہوتا ہے اور درحقیقت وہ ایک روحانی آفتاب نکلتا ہے جس کی کم و بیش دور دور تک روشنی پہنچتی ہے۔ اور جیسی آفتاب کی مختلف تا شیریں حیوانات و نباتات و جمادات اور ہر ایک قسم کے جسم پر پڑ رہی ہیں اور بہت کم لوگ ہیں جو اُن تا شیروں پر باستیفا علم رکھتے ہیں ۔ اسی طرح وہ شخص جو مامور ہو کر آتا ہے تمام طبائع اور اطراف اکناف عالم پر اس کی تاثیر میں پڑتی ہیں اور جبھی سے کہ اس کا پُر رحمت تعین آسمان پر ظاہر ہوتا ہے آفتاب کی کرنوں کی طرح فرشتے آسمان سے نازل ہونے شروع ہوتے ہیں اور دنیا کے دور دور کناروں تک جو لوگ راستبازی کی استعد ا در رکھتے ہیں ان کو سچائی کی طرف قدم اٹھانے کی قوت دیتے ہیں اور پھر خود بخود نیک نہا دلوگوں کی طبیعتیں سچ کی طرف مائل ہوتی جاتی ہیں ۔ سو یہ سب اس ربانی آدمی (۴۵۰ ) کی صداقت کے نشان ہوتے ہیں۔ جس کے عہد ظہور میں آسمانی قو تیں تیز کی جاتی ہیں۔ کچی وحی کا خدائے تعالیٰ نے یہی نشان دیا ہے کہ جب وہ نازل ہوتی ہے تو ملائک بھی اس کے ساتھ ضرور اُترتے ہیں اور دنیا دن بدن راستی کی طرف پلٹا کھاتی جاتی ہے۔ سو یہ عام علامت اُس مامور کی ہے جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور خاص علامتیں وہ ہیں جو ا بھی ہم ذکر کر چکے ہیں ۔ (۱۶) سوال۔ انجیل میں لکھا ہے کہ مسیح جلال کے ساتھ دنیا میں آئے گا اور دنیا اس کو قبول کرلے گی لیکن اس جگہ جلالی ظہور کی کوئی علامت نہیں اور نہ دنیا نے قبول کیا ہے؟