ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 321
هولد لاله ها روحانی خزائن جلد ۳ ۳۲۱ ازالہ اوہام حصہ اول تو محدثیت جو قرآن شریف میں نبوت کے ساتھ اور رسالت کے ہم پہلو بیان کی گئی ہے جس کے لئے صحیح بخاری میں حدیث بھی موجود ہے اس کو اگر ایک مجازی نبوت قرار دیا جائے یا ایک شعبہ تو یہ نبوت کا ٹھہرایا جائے تو کیا اس سے نبوت کا دعوی لازم آ گیا ؟ قرآن شریف کی وہ قراءت یاد کرو کہ جو ابن عباس نے لی ہے اور وہ یہ ہے وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبى ولا محدّث الا اذا تمنى القى الشيطن في امنيته فينسخ الله ما يلقى الشيطن ثم يحكم الله ايته - وحی الہی پر صرف نبوت کا ملہ کی حد تک کہاں مہر لگ گئی ہے اور اگر ایسا ہی ہے تو پھر اس آیت کے کیا معنے ہیں ؟ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا ہے ۔ اے غافلو! اس اُمت مرحومہ میں وحی کی نالیاں قیامت تک جاری ہیں مگر حسب مراتب ۔ (۱۲) سوال۔ سورۃ زخرف میں یہ آیت موجود ہے وَإِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا (الجزو نمبر ۲۵) یعنی وہ قیامت کے وجود پر نشان ہے سو تم با وجود موجود ہونے نشان کے قیامت کے بارے میں شک مت کرو۔ نشان سے مراد حضرت عیسی ہیں جو قیامت کے قریب نازل ہوں گے اور اس آیت سے اُن کا نازل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اما الجواب ۔ ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ اس آیت کو پیش کر کے قیامت کے منکرین کو ملزم کرنا چاہتا ہے کہ تم اس نشان کو دیکھ کر پھر مردوں کے جی اُٹھنے سے کیوں شک میں پڑے ہو۔ سو اس آیت پر غور کر کے ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس کو حضرت عیسی کے نزول سے کچھ بھی تعلق نہیں آیت تو یہ بتلا رہی ہے کہ وہ نشان مُردوں کے جی اٹھنے کا اب موجود ہے اور منکرین کو ملزم کر رہی ہے کہ اب بھی تم کیوں شک کرتے ہو ۔ اب ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کا اس آیت میں یہ مطلب ہے کہ جب حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے تب اُن کا آسمان سے نازل ہونا مُردوں کے جی اُٹھنے کے لئے بطور دلیل یا علامت کے ہو گا تو پھر اس دلیل کے ظہور سے پہلے خدائے تعالیٰ لوگوں کو کیوں کر ملزم کر سکتا ہے الرعد : ۱۸ الزخرف :٦٢